انوارالعلوم (جلد 6) — Page 109
انوار العلوم جلد 4 ۱۰۹ آئینہ صداقت پھر باوجود اس قدر مشابہتوں کے کون کہہ سکتا ہے کہ مسلمان نصاری کے مشابہ نہیں ؟ اور کیا مسیحی ایک بڑی تبلیغی جماعت نہیں اور کیا اس وقت تک لاکھوں مسلمان مسیحی نہیں ہو چکے ؟ جب یہ سب واقعات نظری اور بدیسی ہیں۔ تو ان سے آنکھیں بند کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود کے خلاف منشاء آپ کی جماعت میں سے ضالین کی تلاش کے کیا معنے ہوئے ۔ اور کیا آپ کا یہ فعل دیانت کے خلاف نہیں۔ مسیح موعود میں رسول کریم اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت مسیح سے مشابہت کی سے کا جسے حضر میں موجود کی جاعت میں بھی نہیں لوں وجہ سے سے حضرت مسیح موعود کی جماعت میں بھی بعض لوگوں سے مشابہت کا پہلو بڑھا ہوا تھا نے راستہ سے کبھی اختیار کرنی تھی مگر یہ پیشگوئی اس نے راستہ سے بھی اختیار کرنی ھی مگر یہ بیگونی کے متعلق نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود کی جماعت کا فتنہ ایک خفیف اور نسبتاً بے حقیقت فتنہ تھا اور نہیں کیونکہ ضرت موعود کی فتنہ اور نسبتا بے حقیقت ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کا اکثر حصہ راہ راست پر رہا اور تھوڑے تھے جنہوں نے حق سے منہ پھیرا بمقابلہ حضرت موسی کے پیروؤں کے کہ ان میں سے ایک جماعت کثیر نے وقت پر قدم پیچھے ہٹا لیا۔ اسی طرح ضروری تھا کہ امت محمدیہ کے مسیح کی جماعت کا کثیر حصہ حق پر قائم رہے اور نسبتاً قلیل حصہ حق سے جدا ہو۔ اور جہاں حضرت مسیح موعود کی حضرت مسیح ناصری سے مشابہت اور مماثلت مد نظر رہنی چاہیے ۔ وہاں ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رہنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود موسوی سلسلہ کے خلیفہ نہیں بلکہ محمدی سلسلہ کے خلیفہ ہیں۔ اور صرف مثیل مسیح ہی نہیں بلکہ بروز محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں۔ خود حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں : پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس پہ میرا سب مدار یعنی مثیل مسیح ہونے کی وجہ سے مجھے بھی وہی مصائب پیش آنے چاہئیں تھے کہ جو حضرت شیخ ناصری کو پیش آئے اور میں صلیب پر لٹکایا جاتا مگر میں احمد بھی ہوں اور اسی نام پر میرا سب مدار ہے۔ پس میرا معاملہ اور مسیح ا معاملہ مختلف ہے۔ احادیث رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم بی سی اس کی تصدیق کرتی ہیں کہ آخری زمانہ کے مصلح میں مسیحیت محمدیت کے ماتحت ہوگی ۔ چنانچہ احادیث سے ثابت ہے کہ مہدی شیخ کے آگے نماز میں امام ہو گا اور جب ہم اس حدیث کو مد نظر رکھیں کہ لا الْمَهْدِی الا عنسی رابن ماجہ کتاب الفتن باب شدة الزمان، سوائے محمدی کے اور کوئی مسیح کے وقت میں نہیں ہو گا۔ تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مہدی کی مسیح کو امامت کرانے سے مراد اس کی صفات مہدویت کا صفت مسیحیت پر غالب ہونا ہے اور واقعات بھی اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود کو جو کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں وہ حضرت شیخ ناصری سے بہت بڑھ کر ہیں ۔ نه