انوارالعلوم (جلد 6) — Page 99
انوار العلوم جلد 4 ت ۹۹ آئینہ صداقت کہلاتے رہے۔ اور یہ امر بالکل حضرت شیخ ناصری کے واقعہ سے مشابہ ہے۔ لیکن اس نشانہ کے ماتحت صرف وہ شخص ان مسیحیوں سے کہ جنہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر آپ کو ان معنوں میں خدا کا ان بیٹا کہنا شروع کر دیا جن معنوں میں یہود کہتے تھے کہ آپ کو خدا کا بیٹا ہونے کا دعوی ہے مشابہ ہو سکتا ہے جو حضرت مسیح موعود کو تشریعی نبی قرار دیتا ہے ۔ مسیح ناصری کے غالی متبعین سے ہماری مشابہت درست نہیں پس حضرت مسیح ناصری کے ان متبعین سے مشابہت جنوں نے ان کے درجہ میں ان کی وفات کے بعد غلو کیا ہمیں نہیں۔ کیونکہ ہم تو ہرگز ان معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعود کو نبی نہیں کہتے جن معنوں کی رو سے عموماً آپ کے دشمن آپ پر اعتراض کیا کرتے تھے اور جن معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعود اپنے نبی ہونے کا انکار کرتے تھے اور وہی لوگ ان مسیحیوں سے مشابہت رکھتے ہیں جو کہ حضرت مسیح موعود کو ان معنوں کی رو سے نہیں کتنے ہیں کہ آپ صاحب شریعت تھے یا اپنا کوئی نیا کلمہ بناتے تھے یا قرآن کریم کا کوئی حکم منسوخ کرتے تھے ۔ اور خود مولوی صاحب اپنی کتاب سپلٹ حصہ چہارم میں جس کا جواب میں اس وقت لکھ رہا ہوں صفحہ پندرہ پر لکھتے ہیں۔ کہ ایک شخص احمدی جماعت کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والا ایسا ہے جو کہتا ہے کہ اب لا إِلهَ إِلَّا اللهُ أَحْمَدُ رَسُولُ اللهِ پڑھنا چاہئے ۔ پس جبکہ خود مولوی صاحب کی شہادت کی رو سے ایک ایسا شخص موجود ہے جو حضرت مسیح موعود کو ان معنوں کی رو سے نبی کہتا ہے جن معنوں کی رو سے دشمن آپ پر اعتراض کرتے تھے اور جن معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعود اپنے نبی ہونے سے انکار کرتے تھے تو پھر دیدہ و دانستہ سیمیوں سے ہمیں مشابہ قرار دینا کون سی دیانت ہے ۔ غرض جیسا کہ میں او پر لکھ آیا ہوں یہ مشابہت ہمیں نہیں بلکہ ان کو حاصل ہے۔ جو حضرت مسیح موعود کو تشریعی نبی کتے ہیں اور ان کے نام کا کلمہ پڑھنا جائز سمجھتے ہیں۔ مگر مولوی صاحب جان بوجھ کر ہم پر الیسا الزام لگاتے ہیں جس سے ہم بری ہیں ۔ یہی شخص جس کا ذکر مولوی صاحب نے کیا ہے۔ صاف لکھتا ہے :۔ " میاں صاحب موصوف حضرت مسیح موعود کو غیر تشریعی اور امتی نبی اور غیر تشریعی امتی رسول اللہ مانتے ہیں ۔ اور حضرت مسیح موعود کے الہامات میں جو اوامر و نواہی ہیں ۔ ان پر عمل کرنے سے پہلوتہی کرتے ہیں اور حضرت مسیح موعود کی تحریر کے ماتحت ان کو صاحب شریعت رسول ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اپنی غلط بات پر قائم رہنے پر اصرار کرتے ہیں ۔