انوارالعلوم (جلد 6) — Page 97
انوار العلوم جلد 4 ۹۷ آئینه صداقت طرح آج اس گروہ نے جس کی انجمن کے پریزیڈنٹ مولوی محمد علی صاحب ہیں یہ آواز بلند کی ہے کہ خلیفہ کوئی چیز نہیں بلکہ ایک انجمن کے سپرد جماعت کا انتظام ہونا چاہئے۔ مگر جس طرح خوارج پہلے چند سال شور و شہر کر کے آخر دب کر بیٹھ گئے اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اس گروہ کا بھی یہی حال ہوگا ۔ انجیلی آیات مولوی محمد علی صاحبکا استدلال مولوی محمد علی صاحب نے انیل کی چند آیات نقل کر کے لکھا ہے کہ مسیح کے دشمنوں نے ان پر یہ اعتراض کیا تھا کہ یہ خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس پر مسیح نے انکار کیا اور کہا کہ مجھے جو خدا کا بیٹا کہا گیا ہے ۔ یہ صرف استعارہ کیا گیا ہے اور انہی معنوں میں ہے۔ یہ 1 کہا گیا ہے جن میں پہلے نبیوں کو خدا کیا گیا تھا۔ مگر آپ کی وفات کے بعد آپ کے حواریوں نے اپنی معنوں میں آپ کو خدا کا بیٹا کہنا شروع کر دیا جن معنوں میں کہ خدا کا لفظ رب العالمین کی نسبت استعمال ہوتا ہے اور جن معنوں میں ابنیت کا دعویٰ کرنے کا الزام میہودی حضرت مسیح علیہ السلام پر لگاتے تھے وہ اس سے استدلال کرتے ہیں کہ بعینہ اسی طرح مسیح محمدی سے ہونا چاہئے تھا اور ہوا ہے ۔ اس کے دشمنوں نے بھی کہا کہ یہ نبوت کا دعوی کرتا ہے لیکن اس نے انکار کیا کہ مجھے نبوت کا دعوی نہیں بلکہ مجازی طور پر مجھے نبی کہا گیا ہے مگر آپ کی وفات کے بعد آپ کی جماعت نے مسیح کے حواریوں کی طرح یہی کہنا شروع کر دیا کہ وہ ویسے ہی نبی تھے جیسے کہ ان کے دشمن کہتے تھے ۔ میرے نزدیک یہ مشابہت انہوں نے بہت عمدہ دریافت کی ہے مگر اس کو چسپاں انہوں نے غلط کیا ہے ۔ ہم ان آیتوں کو جو انہوں نے انجیل سے نقل کی ہیں پڑھ کر دیکھتے ہیں تو ان میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سیود آپ پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ خدا کا بیٹیا فلاں فلاں معنوں کی رو سے بنتا ہے ۔ حضرت مسیح کہتے ہیں کہ نہیں میں خدا کا بیٹا ان معنوں کی رو سے بنتا ہوں جن میں پہلے نبی خدا کہلائے ۔ آپ کے بعد آپ کی جماعت نے خدا کے وہ معنے لے کر مسیح کی طرف منسوب کر دیئے جو مسیح کے دشمن لیتے تھے اب اسی مثال کو ہم حضرت مسیح محمدی کے وقت میں تلاش کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود پر آپ کے دشمنوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ آپ شریعت والے نبی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود اپنے ایک خط مطبوعہ روزانہ اخبار عام لاہور میں یہ اخبار پنجاب کا سب سے پرانا اخبار ہے اور اس کے ایڈیٹر اور مالک سب ہند و اصحاب ہیں اس اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی تھی کہ گو یا حضرت مسیح موعود نے اپنے دعوائے نبوت سے رجوع کر لیا ہے ۔ اس پر حضرت مسیح موعود نے ایک خط اپنے