انوارالعلوم (جلد 6) — Page 94
انوار العلوم جلد 4 ۹۴ آئینہ صداقت ہے۔ جو مقداد بن عمر نے دیا۔ کیونکہ اس میں انہوں نے وہی الفاظ تغیر مناسب دہرائے ہیں۔ جو حضرت موسی کی قوم نے حضرت موسی کو دیا تھا ۔ وہ کہتے ہیں کہ واللَّهِ لَا تَقُولُ لَكَ مَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى إِذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هُهُنَا فَعِدُونَ - وَالكِنْ إِذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا إِنَّا مَعَكُمَا مُقَاتِلُونَ - (سیرت ابن ہشام عربی جلد ۲ صفحہ ۲۶ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء) خدا کی قسم ہم تجھے وہ جواب نہیں دیں گے جو بنی اسرائیل نے موسی کو دیا تھا کہ جا تو اور تیرا رب جا کر لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہمارا جواب تو یہ ہے کہ چلئے آپ اور آپ کا رب دشمن کا مقابلہ کریں ہم آپ کے ساتھ مل کر دشمنوں سے لڑیں گے " یہ فرق تو اصحاب موسی اور اصحاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے ۔ خدا کے معاملہ میں بھی ہم یہی فرق دیکھتے ہیں ۔ حضرت موسی بغیر اس موعودہ زمین میں داخل ہونے کے اپنی جماعت سمیت اس زمین کے سامنے ہی خیمہ ڈالے ہوئے فوت ہو گئے اور آگے ان کی اولاد کے ہاتھ پر وہ وعدہ پورا ہوا ۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہایت شان و شوکت کے ساتھ اپنے صحابہ کی جماعت میں گھرے ہوئے جس طرح چاند ہالہ کے اندر ہوتا ہے مکہ میں بذات خاص فاتحانہ طور پر داخل ہوئے اور ہمیشہ کے لئے وہ ملک آپ کو دیا گیا ۔ میشیخ مسیح ناصری اور شیخ قادیانی کی جماعت میں فرق میں ناصری اورمیں قادیانی جو وجہ موسوی اور محمدی سلسلوں باب ۲۶ آیت کے خاتم الخلفاء ہونے کے ایک دوسرے سے مشابہ ہیں ان میں اور ان کی جماعتوں میں بھی وہی نسبت پائی جاتی ہے۔ حضرت شیخ ناصری کے حواریوں میں سے ایک کو جب اس کے مخالفوں نے پکڑا اور کہا کہ بیشک تو کبھی ان میں سے ہے دیعنی مسیح کے ساتھیوں میں سے ، کہ تیری بولی تجھے ظاہر کرتی ہے۔ تب اس نے کراو لعنت بھیج کر اور قسم کھا کر کہا۔ میں اس شخص کو نہیں جانتا " دستی باب ) مسیح محمدی کے حواریوں میں سے بھی ایک شخص دیے بلکہ اس سے بھی زیادہ خطر ناک ابتلا میں مبتلا ہوا لا وہاں تو دو عورتوں نے اور ایک دفعہ چند ہود نے جو حکومت میں کوئی دخل نہ رکھتے تھے پوچھا تھا کہ کیا تو مسیح کے ساتھ ہے یہاں مسیح محمدی کے حواری سے خود بادشاہ نے دریافت کیا کہ کیا تو اس مشیح کے ساتھ ہے ۔ اور وہاں تین دفعہ کے دریافت پر اس نے انکار پر اصرار کیا۔ اور یہاں کئی دفعہ کے اصرار پر مسیح محمدی کے حواری نے بار بار اقرار کیا۔ نارتھ انڈیا با قبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء