انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 93

مِنْ عَدُوِّہٖ وَاَنَّ لَیْسَ عَلَیْھِمْ اَنْ یَّسِیْرَ بِھِمْ اِلٰی عَدُوٍّ مِنْ بِلَادِھِمْ فَلَمَّا قَالَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَہٗ سَعْدُبْنُ مَعَاذٍ وَاللہِ لَکَأَنَّکَ تُرِیْدُنَا یَا رَسُوْلَ اللہِ قَالَ اَجَلْ قَالَ فَقَدْ اٰمَنَّا بِکَ وَصَدَّقْنَاکَ وَشَھِدْنَا اَنَّ مَاجِئْتَ بِہٖ ھُوَ الْحَقُّ وَاَعْطَیْنَاکَ عَلٰی ذٰلِکَ عُھُوْدَنَا وَمَوَاثِیْقَنَا عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فَامْضِ یَارَسُوْلَ اللہِ لِمَا اَرَدْتَ فَنَحْنُ مَعَکَ فَوَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَوِاسْتَعْرَضْتَ بِنَا ھٰذَا الْبَحْرَ فَخُضْتَہٗ لَخُضْنَاہُ مَعَکَ مَا تَخَلَّفَ مِنَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ وَمَانَکْرَہٗ اَنْ تَلْقٰی بِنَا عَدُوَّنَا غَدًا اِنَّا لَصُبُرٌ فِی الْحَرْبِ صُدُقٌ فِی الِّلقَآءِ لَعَلَّ اللہَ یُرِیْکَ مِنَّا مَا تَقِرُّبِہٖ عَیْنُکَ فَسِرْ بِنَا عَلٰی بَرَکَۃِ اللہِ -٭یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوف کرتے تھے کہ کہیں انصار یہ خیال نہ کرتے ہوں کہ ان پر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی مدد صرف اسی وقت فرض ہے جب کوئی دشمن مدینہ پر حملہ آور ہو اور یہ کہ ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کا حق نہیں جبکہ آپؐ ان کو ان کے علاقہ سے باہر کسی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے لے جانا چاہیں۔پس جب آپؐ نے کہا لوگو! تمہارا کیا مشورہ ہے؟ تو سعد بن معاذؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ؐ ہم تو آپ پر ایمان لاچکے ہیں اور آپ ؐکی تصدیق کرچکے ہیں اور اس بات کی گواہی دے چکے ہیں کہ آپؐجو کچھ لائے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اسی وجہ سے ہم نے آپؐسے پختہ عہد اور اقرار کئے ہیں کہ ہم آپ ؐکی اطاعت اور فرمانبرداری کریں گے۔پس یا رسول اللہ چلئے۔جدھر چلتے ہیں۔ہم آپ ؐکے ساتھ ہونگے۔اور اسی خدا کی قسم جس نے آپؐ کو سچّی تعلیم دے کر بھیجا ہے اگر آپؐہم کو اس سمندر کی طرف لے جاویں (بحیرہ احمر کی طرف اشارہ ہے جو عرب کے ساحل پر ہے) اور اس کے اندر داخل ہوجاویں تو ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔اور ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہ رہے گا اور ہم اس بات کو ناپسند نہیں کرتے کہ آپ ہمیں لے کر کل ہی دشمنوں کا مقابلہ کریں۔ہم لڑائی میں صابر اور جنگ میں ثابت قدم ہیں۔ہم اُمید کرتے ہیں کہ آپؐ جنگ میں ہم سے وہ بات دیکھیں گے جو آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریگی۔پس چلئے خدا تعالیٰ کی برکت کے ساتھ یا رسول ؐاللہ۔رسول کریم ﷺکے صحابہ ؓ اور حضرت موسٰی کے ساتھیوں کے جواب میں فرق اس جواب اور اس جواب کا جو حضرت موسٰی کی قوم نے باوجود وعدہ مدد کے دیا تھا مقابلہ کرو اور دیکھو کہ کیا ان دونوں جماعتوں سے زیادہ کوئی اور دو قومیں متفاوت الحالات معلوم ہوتی ہیں مگر اس جواب سے بھی زیادہ عجیب جواب وہ سیرت ابن ہشام عربی جلد ۲ ص ۶۴۴مطبوعہ مصر