انوارالعلوم (جلد 6) — Page 92
مخاطب کرکے فرماتا ہے۔’’میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا۔‘‘ (استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸۔برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انارکلی لاہور ۱۹۲۲ء) رسولِ کریم ﷺکی اور حضرت موسٰی کی کامیابیوں کا مقابلہ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم موسٰی کے مثیل اور اس سے مشابہ سی مشابہتیں ہیں۔وہاں آپ کی کامیابیاں حضرت موسٰی سے بہت بڑھی ہوئی ہیں۔حضرت موسٰی سے بھی ایک وعدہ کیا گیا تھا کہ کنعان کی زمین ان کو دی جاوے گی۔تاکہ وہ ہمیشہ کے لئے ان کے ٹھہرنے کا مقام ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایک وعدہ دیا گیا تھا کہ حرم (حوالی مکّہ)کی سر زمین ان کو دی جاوے گی۔تا ہمیشہ کے لئے ان کے ٹھہرنے کا مقام ہو۔مگر حضرت موسٰی جب اس ملک کے فتح کرنے کے لئے چلے تو باوجود اس کے کہ ان کی قوم نے اس نے پوری مدد کا وعدہ کیا تھا عین موقع پر انہوں نے موسٰی کو یہ جواب دیا کہ يٰمُوْسٰٓى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَہَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْہَا فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰہُنَا قٰعِدُوْنَ(المائدۃ :۲۵)یعنی اے موسٰی ہم اس زمین میں کبھی داخل نہ ہوں گےجب تک کہ اس میں اس کے پہلے قابض لوگ موجود ہیں۔پس تُو اور تیرا رب جاؤ اور ان سے جاکر لڑو۔ہم تو یہ بیٹھےہیں۔حتّٰی کہ حضرت موسٰی کے ساتھ صرف چند آدمی رہ گئے اور لڑائی کا ارادہ چھوڑنا پڑا۔اس کے مقابلہ میں ہمارےا ٓنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپؐ کا انصار سے یہ معاہدہ تھا کہ صرف اس وقت کہ ہم پر مدینہ میں کوئی حملہ آور ہو تمہارا فرض ہوگا کہ تم ہماری مدد کرو۔اور یہ معاہدہ بیعتِ عقبہ کےوقت جو انصار سے آپ نے ہجرت کرنےسے پہلے مکہ مکرمہ میں لی تھی کیا تھا۔چنانچہ مشہور مؤرخ ابن ہشام لکھتا ہے کہ انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کیا تھا کہ یا رسول اللہ اِنَّا بُرَآءٌ مِنْ ذِمَامِکَ حَتّٰی تَصِلَ اِلٰی دِیَارِنَا فَاِذَا وَصَلْتَ اِلَیْنَا فَاَنْتَ فِیْ ذِمَّتِنَا نَمْنَعُکَ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْہُ اَبْنَآءَنَا وَنِسَآءَنَا-یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر ہم آپؐ کی حفاظت کے ذمہ دار نہیں ہاں مدینہ پہنچ کر ہم آپؐ کےذمہ دار ہیں۔ہم جن باتوں سے اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بچاتےہیں آپ ؐکو بھی بچائیں گے۔پس جب بدر کی جنگ ہوئی اور آپ ؐنے ارادہ کیا کہ دشمن کو روکنے کے لئےہم آگے نکل کر اس کا مقابلہ کریں تو لکھا ہے:- کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَخَوَّفُ اَنْ لَا تَکُوْنَ الْاَنْصَارُ تَرٰی عَلَیْھَا نَصْرَہٗ اِلَّا مِمَّنْ دَھَمَہٗ بِالْمَدِیْنَۃِ