انوارالعلوم (جلد 6) — Page 88
جو تھوڑے سے لوگ باوجود مرکز سلسلہ سے دور اور دشمنوں میں گھرے ہوئے ہونے کے ہر قسم کے مخالف حالات کی موجودگی میں خدا تعالیٰ کی آواز کو سن کر اس پر لبیک کہتے ہوئے دَوڑ پڑے تھے ان کی آگے ہی بڑھی ہوئی مصیبتیں اوربھی بڑھ جائیں اور غضب سے اندھے ہوئے ہوئے دشمن ان کو اپنے غصہ سے آگ میں جلا کر راکھ کردیں اور اس طرح مولوی صاحب کے دل کو یہ ٹھنڈک نصیب ہوکہ گو سچّے اسلام کا قصران ممالک میں برباد ہوگیا اور اس کی بنیادیں ہل گئیں مگر ساتھ ہی میری کوششوں بھی ناکامی کا منہ دیکھا۔نعوذ باللہ من ذٰلک۔صداقت کبھی مغلوب نہیں ہوتی مگر مولوی صاحب کو یہ خیال نہیں آیا کہ الٰہی سلسلوں میں داخل ہونے والے لوگ عموماً وہی ہوتے ہیں جو اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر صداقت کو قبول کرتے ہیں اور کوئی مشکل ان کو صداقت کے راستہ سے ہٹا نہیں سکتی۔کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کو ان کے دشمنوں کی کھینچی ہوئی تلواریں اپنے عقائد سے پھر ا سکیں یا صفحہ ہستی سے مٹا سکیں؟ کیا اس زمانہ کے امام کے دشمنوں نے اپنا زور نہیں لگایا اور احمدیوں کو پیس ڈالنے کی کوشش میں ناکامی کا منہ نہیں دیکھا؟ تو کیا اب آپ کے ڈالے ہوئے تیل سے مخالفت کی جو آگ بھڑکے گی اس کے شعلے غیر ممالک کے احمدیوں کو جلا کر راکھ کردیں گے اور وہ یا تو تباہ ہوجائیں گے یا مجبور ہوکر حق کو چھوڑ بیٹھیں گے؟ نہیں خدا کی قسم نہیں۔جس شخص کو ذرّہ بھر بھی حلاوت ایمان سے حصہ ملا ہے وہ جانتا ہے کہ صداقت کبھی مغلوب نہیں ہوتی اور حق کے قبول کرنے کے بعد ہر ایک مصیبت حق کو چھوڑ دینے کے مقابلہ میں آسان معلوم ہوتی ہے۔مولوی محمد علی صاحب کی ناکامیاں کاش! مولوی صاحب ان ناکامیوں کو دیکھ کر ہی کوئی نصیحت حاصل کرتے جو ان کو ہندوستان میں ہوئی ہیں۔ان کی کوششوں کے نتیجہ میں پانچ سال کے عرصہ میں جس قدر لوگ بھی انکے ساتھ شامل ہوئے ہیں ان سے کئی گنے زیادہ نئے احمدی جو ان کے ہم خیالوں سے دنیاوی حیثیت میں بھی کسی طرح کم نہیں میری بیعت میں شامل ہوئے ہیں اور خود ان کے ہم خیالوں میں بھی ایک بہت بڑی تعداد ان کو چھوڑ کر میرے ساتھ آکر مل گئی ہے۔مولوی محمد علی صاحب کا غیر ممالک کی طرف متوجہ ہونا جس طرح مسیح ناصری کے بعد لوگ بنی اسرائیل میں اپنے خیالات کی اشاعت سے مایوس ہو کر دوسری اقوام کی طرف متوجہ ہوئے تھے آپ بھی اسی طرح حضرت