انوارالعلوم (جلد 6) — Page 87
انوار العلوم جلد 4 ۸۷ آئینہ صداقت لوگوں کو سلسلہ میں داخل ہونے کا پھر یہ بھی نہیں خیال کیا جا سکتا کہ گو احدی جاتیں غیر ممالک میں میرے ہی ذریعہ سے قائم ہوئی ہیں شوق دلانے کیلئے صحیح عقائد پھیلانا میری ماں پھیلانا لیکن مولوی صاحب نے یہ خیال کرکے کہ اگر صحیح میان مولوی صاحب نے یہ عقائد پھیلا دیئے جائیں گے تو لوگ اور بھی شوق سے داخل ہوں گے۔ کیونکہ اس سے سلسلہ سے ان کی نفرت کم ہو جاوے گی یہ کتاب شائع کر دی۔ کیونکہ باوجود ان خطر ناک خیالات کے جن کو وہ میری طرف منسوب کرتے ہیں۔ ہندوستان میں جو مذہبی علوم کے لحاظ سے تمام مشرقی ایشیا کا استناد سمجھا جاتا ہے اور جس میں علوم دینیہ کی تعلیم کا دوسرے ممالک سے بہت زیادہ چر چاہیے اور عام طور پر یہاں کے لوگ دوسرے ممالک کے باشندوں سے دین سے بہت زیادہ واقف ہیں ہر سال ہزار ہا آدمی میری بیعت میں شامل ہو کر سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں مولوی صاحب اور ان کے ساتھی جو کہ بقول ان کے A large number of the educated members of the community ہیں اور جو پھر ساتھ ہی MORAL COURAGE رکھتے ہیں اب تک چھ سال کے عرصہ میں استقدر آدمیوں کو احمدی نہیں بنا سکے جس قدر کہ بعض دفعہ صرف ایک مہینہ میں میری بیعت میں شامل ہو جاتے ہیں اور جن میں دینی اور دنیاوی علوم کی اعلیٰ سے اعلیٰ ڈگریوں والے لوگ بھی شامل ہیں ۔ سپلٹ کے شائع کرنے کی اصل وجہ پیس اگر کوئی وجہ اس کتاب کی تحریر کی ہے تو صرف یہ کہ مولوی صاحب اس بغض و کینہ کی وجہ سے جو مجھ سے رکھتے ہیں یہ نہیں دیکھ سکتے کہ مجھے کوئی کامیابی ہو۔ اور ان کو میری مخالفت کا اس قدر خیال ہے کہ اس میں اگر اسلام اور سلسلہ احمدیہ کو کوئی نقصان بھی پہنچ جاوے تو ان کو اس کی پرواہ نہیں ہیں جب انہوں نے شمالی ہند اور دیگر ممالک میں میری ناچیز کوششوں کو بار آور ہوتے دیکھا اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کو مجھ پر نازل ہوتے مشاہدہ کیا تو انہوں نے اور کوئی حیلہ کارگر ہوتا ہوا نہ دیکھ کر یہ تدبیر جسے وہ بہت دفعہ ہندوستان میں بھی استعمال کر چکے ہیں اختیار کی کہ میرے عقائد کو بڑی سے ہری شکل میں دکھا کر اور ایسے الفاظ میں لکھ کر کہ جن کے پڑھنے سے ہر ایک غیر احمدی کا سینہ جوش غضب سے بھر جاوے اور اس کی آنکھوں میں خون اتر آئے اور بہت سے غلط واقعات سے اس کو زیب دے کر غیر ممالک میں شائع کیا جس سے ان کی یہ غرض تھی کہ لوگوں میں اس سلسلہ کی نسبت ایک عام جوش پھیل جاوے اور وہ لوگ اس سے بدظن ہو کر اس میں داخل ہونے سے رک جاویں اور στη