انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 86

انوار العلوم جلد 4 آئینه صداقت ہے جنہوں نے آپ کی زبان سے نکلی ہوئی باتوں کو سنا اور سمجھا اور جنہوں نے آپ کے ہاتھوں لکھی ہوئی کتابوں کو اسی زبان میں پڑھا کہ جس میں وہ لکھی گئی تھیں اور جو تعداد میں دیگر تمام ممالک کے احمدیوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہیں ان کی زبان انگریزی نہیں اور نہ سواء سوائے ایک قلیل تعداد کے جو ایک فیصدی بھی نہیں وہ لوگ انگریزی سمجھ یا پڑھ سکتے ہیں ۔ بیرونی ممالک میں سلسلہ کی ترقی میں اسی طرح اس کتاب کے لکھنے کی یہ غرض بھی نہیں ہو سکتی کہ ہمارے عقائد کے پھیلنے سے پیش آنیوالی ڈور کا وٹوں کا دور کرنا جو ان کے نزدیک نہایت اشتعال انگیز اور فتنہ خیز ہیں احمدی جماعت کی ترقی رک گئی تھی اور ہندوستان سے باہر کے ممالک میں سلسلہ کا بڑھتا ہوا قدم بھر گیا تھا اور اس خطر ناک تعلیم کو سن کر لوگ سلسلہ سے ہزار ہو گئے تھے۔ لیں احمد یہ جماعت کی خدمت اور اسلام کی محبت کو مد نظر رکھ کر وہ مجبور ہوئے کہ لوگوں کو بتائیں کہ جو علم میری طرف سے پھیلائی گئی تھی وہ غلط اور سیح موعود کی تعلیم کے خلاف تھی مسیح موعود کی تعلیم تعلیم بالکل اسلام کے مطابق اور انہی لوگوں کے عقائد کے موافق ہے کیونکہ ہندوستان سے باہر سیلون - ماریس، افریقہ وغیرہ ممالک میں کہ جہاں اس کی اشاعت کی گئی ہے اور جن ممالک کو مد نظر رکھ کر یہ کتاب لکھی گئی ہے وہاں ان لوگوں کا کوئی مشن نہ پہلے کبھی قائم ہوا اور نہ اب قائم ہے ۔ بیرونی ممالک میں احمدیت کی تعلیم کب شروع ہوئی جس قدر احمدیت کی اشاعت احمدیت کی ہوئی میری باتیں غیر ممالک میں ہوئی ہے وه سب میرے ہی زمانہ اور میرے ہی ذریعہ سے ہوئی ہے۔ ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ تَشَاءُ خدا تعالیٰ نے یہ نعمت اور یہ ثواب میرے لئے ہی مقدر کر رکھا تھا کہ ایسے وقت میں جب کر رکھا تھا جماعت ایک اندرونی آفت سے ایک سخت خطرہ میں تھی اور اپنوں اور بیگانوں کو خیال ہو رہا تھا کہ سے جماعت احمدیہ کی زندگی کے دن پورے ہو گئے مجھے اس نے یہ طاقت دی کہ میں ہندوستان کے باہر کے ممالک کو بھی جواب تک اس نعمت عظمی سے جو خدا تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی بعثت کے ذریعہ سے دنیا پر نازل کی محروم تھے ان کا حق اور حصہ ادا کروں ۔ پس جس قدر قدر احمدی بھی غیر ممالک میں ۔ میں ہوئے وہ باوجود ان" ان " "تنگ خیالات کی اشاعت کے جو مولوی صاب میری طرف منسوب کرتے ہیں ہوئے ہیں پس ان کے اس کتاب کو تحریر کرنے کا یہ امر بھی باعث نہیں ہو سکتا کہ میرے خیالات کی اشاعت سے سلسلہ کی ترقی کو نقصان پہنچ رہا تھا ۔ الجمعة : ٥