انوارالعلوم (جلد 6) — Page 80
آئیں گی بلکہ یہ کہے کہ گو زمانہ ایسا نہیں لیکن اگر کوئی ایسی تکلیف آئے تو مَیں اُسے برداشت کرنے کے تیار ہوں۔اگر مجھے وطن سے نکالاجائے گا تو نکلوں گا،اگر میرا مال چھین لیاجائے گا تو پروا نہیں کرونگا، اگر قتل کیاجائیگا تواس کے لئے بھی تیار ہونگا۔اگر چہ کم ہیں لیکن ہماری جماعت میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اس قسم کی تکالیف کو برداشت کیا گیا۔مالا بار میں ہماری جماعت ابھی کم ہے،وہاں احمدیوں کی عورتوں کو جبراً دوسری جگہ نکاح کر دیا گیا۔جائدادیں چھین لیں اور بھی کئی جگہ طرح طرح کی تکالیف پہنچائی گئیں۔مگر احمدیوں نے کوئی پرواہ نہ کی۔پس جب انسان صداقت کو قبول کرے تو اس طرح کرے کہ پھر اس کے لئے ہر ایک چیز جو اُسے قربان کرنی پڑے کردے۔اور جب اپنے آپ کو اس بات کے لئے تیا ر پائے تب بیعت کرے۔ان باتوں کے سننے کے بعد اگر آپ بیعت کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں مگر پھر بھی مَیں یہی نصیحت کرتا ہوں کہ خوب سوچ سمجھ کر بیعت کریں اور ان تکالیف اور مشکلات کو برداشت کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرلیں جو انبیاء کی جماعتوں پر آتی ہیں۔اس پر جب موصوف نے کہا کہ مَیں بالکل مطمئن ہوں اوربیعت کرنے کے لئے تیار ہوں تو بیعت لی گئی اوراس کے بعد حضور نے تبلیغ کرنے اور خلیفۂ وقت سے زیادہ تعلق بڑھانے کی تلقین فرمائی۔(الفضل ۳۰؍ مئی ۱۹۲۱ء)