انوارالعلوم (جلد 6) — Page 56
کے لئے یہ طریق غلط ہے،انجیل کے پیش کردہ یسوع کو اور اس کی انجیلی حیثیت کو سامنے رکھ کر سختی سے جواب دیا۔اس طریق نے عیسائیوں کے قلموں کو توڑ دیا اوران کی زبان کو بند کردیا۔کیا حضرت مرزا صاحب نے یہ طریق اختیار کرکےآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خدمت نہیں کی اور آپ کو دشمنوں کی بد زبانیوں سے نہیں بچایا۔پھر حیرت ہے کہ ان کو کیوں غصہ آتا ہے کہ عیسیٰ کو گالیاں دی جاتی ہیں۔جائیں یہ عیسائی ہو جائیں۔ہم محمدی ہیں ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے غیر ت ہے۔اگر آپ پر اب بھی کوئی اس طریق سے حملہ کریگا تو ہم پھر وہی طریق اختیار کرینگے۔ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کسی انسان سے محبّت نہیں ہوسکتی۔حضرت مرزا صاحب نے جو طریق اختیار کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائیوں نے اپنا طریق عمل بدل دیا اور گورنمنٹ کو بھی ایک قانون بننا پڑا۔پس یہ کیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ کرنے والے لوگ ہیں کہ جس طریق سے آپ کی عزت کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے یہ اسی کو بُرا کہتے ہیں اور اس کو گالیاں قرار دیتے ہیں۔حضرت صاحب پر دعویٰ الوہیت کا الزام پھر اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے الوہیّت کا دعویٰ کیا اور ثبوت یہ کہ انہوں نے کہا کہ میں نے آسمان بنایا اور زمین بنائی۔لیکن ان مولویت کے مدعیوں کو معلوم نہیں کہ یہ خواب اور کشف کی بات ہے اور خواب اور کشف معنے رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعودؑ نے اپنا ایک کشف بیان کیا ہے اور اس کشف میں انسان کا اپنا کچھ دخل نہیں ہوتا۔لیکن اگر کشف اور خواب پر اعتراض ہوسکتا ہے تو احادیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کشف دیکھا کہ آپ کے ہاتھ میں دو کڑے ہیں۔٭کیا کوئی ان مولویوں جیسا بے خبر اعتراض کرسکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ من ذالک عورتوں کی طرح زیور پہنا کرتے تھے۔پھر یہ مولوی صاحب جنہوں نے یہ اعتراض پیش کیا ہے غالباً انہی کے پیر مولوی محمد علی مونگھیری نے اپنی ایک خواب بیان کی ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ وہ اپنی ماں سے جماع کر رہے ہیں۔کیا یہ ایک گندا خواب نہیں۔پھر شیشہ کے مکان میں رہنے والے ہم پر کیوں پتھر پھینکتے ہیں۔آسمان و زمین کا بنانا خواب میں دیکھناتو بُرا نہیں۔مگر ماں سے جماع کرنا کہاں کی خوبی ہے۔پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے پیرمولوی فضل الرحمان صاحب سے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ اسکے معنے یہ ہیں کہ آپ کو بڑا درجہ ملے گا۔اس پر ہمارے ایک دوست نے لکھا تھا کہ ان پیر صاحب کے مُرید اس بڑے درجہ کے حصول کے لئے آنکھیں بند کرکے ماں کے ساتھ جماع کرنے کا تصوّر کرکے بیٹھ جاتے ہونگے اور اس طرح روحانی منازل طے کرتے ہونگے۔یہ ان مولویوں کی تہذیب ہے اور یہ ان کی واقفیت ہے اور *بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة فی الاسلام