انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 52

فرماتے تھے کہ مجھے رحم آگیا کہ کسی مجبوری سے ہی اس نے کیا ہوگا۔پُوچھا کیا ہوا تھا اُس نے جواب دیا۔ان لوگوں نے چڑی کے برابر روپیہ میرے سامنے رکھ دیا۔پھر مَیں نکاح نہ پڑھتا تو کیا کرتا۔کیا یہی علماء ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نبی کے ورثاء ہیں۔مصر کے ایک جوئے باز شیخ الاسلام یہ تو ہمارے ملک کی حالت ہے مصر میں مَیں نے دیکھا کہ پور سعید کے شیخ الاسلام (مفتی) کی ڈاڑھی مُنڈی ہوئی تھی اور علی الاعلان برسر بازار جُؤاکھیل رہا تھا۔عمان کا ایک عالم جو مجھے مل چکا تھا اور مجھ سے واقف ہوگیا تھا کہ مَٰن ایک مذہبی ادمی ہوں وہ بھی اس کے ساتھ جوأ کھیل رہا تھا۔مجھے دیکھ کر اُس نے بہت ٹلانا چاہا مگر وہ مفتی صاحب جب نہ تلے تو آخر اس نے صاف کہا کہ مَیں اب نہیں کھیلونگا۔اگر کوئی مخفی غلطی اور کمزوری اور گناہ ہو تو اسے بشری کمزوری پر محمول کریں۔مگر علی الاعلان اس طرح شریعت کی ہتک کرنی کیا اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ ان کے دلوں میں اسلام کی محبت ہی نہیں رہی۔کیا دیکھتے نہیں کہ کس طرح علی الاعلان سو د لیا جاتا ہے اور علماء دیکھت ہیں اور کچھ نہیں کہتے۔کیا کسی مصلح کی ضرروت نہیں پس ایسے خطرناک زمانہ میں جبکہ علماء اور عوام غرباء اور امراء سب بگڑے ہوئے ہیں۔کیا کسی مصلح کی ضرورت نہیں ہمارے لئے اس وقت دو ہی سوال ہیںاوّل یہ کہ کیا اسلام کی موجودہ حالت کسی مصلح کی محتاج ہے یا نہیں۔دوسرے اگر محتاج ہے تو وہ مصلح کہاں ہے۔محض اعتراض کرکے بیٹھ رہنے سے آج کام نہیں چل سکتا۔خدا کی نصرت مسلمان کہلانیوالوں کے ساتھ نہیں ہم اس زمانہ میں دیکھتے ہیں کہ مسلمان کہلانے والے خدا کے پیارے نہیں رہے کیونکہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّ اللہَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ (الرعد : ۱۲ ) کہ خدا تعالیٰ کسی قوم سے اپنی نعمتوں کو واپس نہیں لیا کرتا جب تک کہ وہ قوم ناشکرری کرکے اس نعمت کو ردّ نہ کرے۔اب اس وقت کے مسلمانوں کی حالت کو دیکھو کہ کیا وہ خدا کی نعمتیں پا رہے ہیں یا زحمتوں میں مبتلاء ہیں۔کیا مسلمانوں کو نصرت الٰہی مل رہی ہے یا اُن پر خدا کا غضب ٹوٹ رہا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ایک وہ وقت تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی مردم شماری کا حکم فرمایا تھا اور کُل ساتھ سو مسلمان نکلے تھے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے دریافت کیا تھا کہ یا رسول اللہ