انوارالعلوم (جلد 6) — Page 49
سال حضرت علیؓ کے واقعات پر جب پچھلے سال میں تقریر کے لئے کھڑے ہوا تو ایک شخص نے کھڑے ہوکر کہا کہ اور باتیں تو بعد میں ہونگی میرے ساتھ پہلے اس مسئلہ کا تصفیہ کرلو کہ زمین چلتی ہے یا سُورج۔یہ ایک طے شدہ اور صاف مسئلہ ہے لیکن دُنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے نزدیک ابھی تک یہ بھی حل شدہ نہیں۔پس دُنیا میں کوئی مسئلہ اور کوئی شخص ایسا نہیں جس پر اعتراض نہ ہو۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب پر فلاں اعتراض پڑتا ہے فلاں اعتراض پڑتا ہے مگر میں ان کو کہتا ہوں کہ وہ دُنیا میں ایک تو ایسا شخص پیش کریں جس پر کوئی اعتراض نہ ہو پس محض اعتراضات پر کسی مسئلہ کی تحقیق کی بنیاد رکھنا جہالت ہے۔کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض نہیں کئے گئے۔کیا عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض نہیں کرتے۔کیا یہود کو حضرت مسیحؑ پر اعتراض نہیں تھے۔اور نہیں ہیں۔کیا بنی اسرائیل کے اعتراضات دائودؑ اورسلیمان ؑ پر نہیں ہیںَ پھر کیا ہندوستان کے مقدسوں رامچندر جی اور کرشن جی پر اعتراضوں کی کمی ہے۔کیا فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسٰی پر اعتراض نہ کئے تھے۔کیا ایران کے بزرگ زرتشت پر اعتراض نہیں کئے گئے اور کیا کسی قوم میں کوئی شخص ایسا گذرا ہے جس پر کوئی اعتراض نہ ہوا ہو۔پس محض اعتراضوں سے کام نہیں چل سکتا۔اگر اعتراض سے کوئی مسئلہ حل ہوسکے تو ان کو ماننا پڑیگا کہ دنیا میں جس قدر راست بازوں کو مانا جاتا ہے غلطی ہے۔کیونکہ اعتراض ان پر بھی ہیں اس لئے ان کو بھی چھوڑ دینا چاہئے۔غرض دنیا میں کوئی مسئلہ نہیں جو ایسے یقینی دلائل سے ثابت ہو کر اس پر کوئی اعتراض پڑ ہی نہ سکتا ہو۔زمیندار تک جانتے ہیں کہ سیدھی لکیر ہوتی ہے۔لیکن یورپ میں ایک گروہ سائنٹسٹوں کا پیدا ہوا ہے۔جس کا دعویٰ ہے کہ جس کو ہم سیدھی لکیر کہتے تھے وہ ہماری غلطی تھی پس دُنیا میں کوئی شخص اور کوئی چیز اعتراض سے خالی اور بچی ہوئی نہیں۔اس لئے محض اعتراضوں پر زور دینا بے ہوگی ہے۔مخالفین صداقت معلوم کرنے کےذرائع نہیں جانتے غیر احمدیوں کے جلسہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کنویں کا مینڈک کہا گیا لیکن ان کو خود معلوم نہیں کہ وہ جہاں ہیں دُنیا وہاں سے بہت آگے نکلی ہوئی ہے وہ اپنا سرمایہ علم ان چند فرسودہ کتابوں کو سمجھتے ہیں جن کی سائنس کے مقابلہ میں کچھ حقیقت نہیں۔ان کو معلوم ہی نہیں کہ انسان کا دماغ کہاں سے کہاں تک پہنچ چکا ہے۔وہ نہیں جانتے کہ تمدن اب کہاں تک جاچکا ہے۔وہ اپنے اسی پرانے رطب ویابس کےذخیرے پر خوش ہیں اور اسی کی بناء پر دُنیا کو کافر و فاسق و فاجر بنا کر خوش