انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 508

وہاں بھی آپ ؑکی جماعت محفوظ رہی اور سوائے اِکّے دُکّے کے عام طور پر جماعت بچی رہی ان باتوں کو دیکھ کر لوگوں کے دلوں پر بہت اثر پڑا اور لاکھوں آدمی انہی دنوں میں آپؑکے سلسلہ میں داخل ہوئے۔اب وہ وقت آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے پسند کیا کہ آپ ؑکو واپس بلواکرآپؑ کے ذمہ رکھا تھا۔چنانچہ آپ کو پے درر پے الہام ہونے شروع ہوئے کہ آپ کی موت قریب ہے اوربعض میں مدت اوربعض میں دن اور بعض میں وہ حالت جس میں آپ ؑفوت ہوں گے بتائی گئی اور آپؑ نے بتایا کہ آپؑکے بعد جماعت کو اللہ تعالیٰ اسی طرح چلائے گا جس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چلایا تھا یعنی خلفاء کےذریعے سے۔اس کے بعد متواتر وحی میں قرب وفات کی خبر دی گئی جو باقاعدہ سلسلہ سے تعلق رکھنے والے دو اخبارات اور تین رسالوں میں دوسری وحی کے ساتھ شائع ہوتی رہی۔آخر ایک ضرورت پر آپ کو لاہور کاسفر پیش آیا تو اس وقت وحی نے بتایا کہ اب وقت بالکل قریب ہے اوربہت سے الہامات نے بتایا کہ اسی سفر میں آپ کی وفات ہوگی لاہور میں آپؑکی طبیعت بہت کمزور ہوگئی اور آپؑ بہت کمزور ہوگئے مگر باوجود اس کے اپنا کام برابر کرتے رہے جو لوگ ملنے آتے ان کو وعظ کرتے اورخدا کی طرف بُلاتےاور عام اہل لاہور کے لئے آپ نے ایک لیکچر دینے کا بھی ارادہ کیا اور اسی لیکچرکی تیاری کے دوران میں جبکہ لیکچر کا مضمون آپؑ ختم کر چکے تھے ۲۶ ؍مئی ۱۹۰۸؁ءکو آپ وہی فوت ہوگئے اور آپؑکی مبارک لاش کو مطابق وحی الٰہی قادیان لاکر ۲۷؍مئی کو دفن کیا گیا۔اور یہ الہامات پورے ہوئے جو کئی سال پہلے شائع کئے گئے تھے کہ ’’ ستائیس کو ایک واقعہ ہمارے متعلق۔‘‘ اور ’’ان کی لاش کفن میں لپیٹ کر لائے ہیں۔‘‘ (تذکرہ صفحہ ۷۰۱ ایڈیشن چہارم) آپ خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کا اس قدر جوش رکھتے تھے کہ آپؑنے قریباً اسی ۸۰ کُتب علاوہ سینکڑوں اشتہاروں کے لکھیں اور سینکڑوں لیکچر دیئے اور روزانہ ان لوگوں کو تعلیم دینے کے لئے جو باہر سے آتے تھے کئی کئی گھنٹے۔تک باہر بیٹھتے تھے اور کام میں ہی آپ کی تمام راحت تھی۔حتّٰی کہ مہینوں گزر جاتے اور آپؑکے ساتھ رہنے والے بھی نہیں سمجھ سکتے تھے