انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 468

جو آنیوالا تھا یوحنا ہی ہے چاہو تو قبول کرو۔پس وقت پرظاہر ہوا کہ آسمان پر سے الیاس کے آنے سے مراد یہی تھی کہ یوحنا جیسا کہ فرشتہ نے اسکی پیدائش سے بھی پہلے بتا دیا تھا مسیح کے آگے الیاس کی طبیعت اور قوت کے ساتھ چلے گا‘‘ (لوقا باب۱ آیت ۱۷)٭پھر لوگوں کو کیا ہوا کہ خدا کے نوشتوں میں آسمان پر سے آنے کا محاورہ پڑھ کر اور خود مسیحؑسے اسکی تشریح سن کر ان الفاظ سے ٹھوکر کھاتے ہیں کہ مسیح آسمان پر سے آئیگا۔کیا خدا کے فرشتہ نےزکریا سے نہ کہہ سیا تھا کہ الیاس کے آسمان پر سے آنے سے مراد ایک اور برگزیدہ شخص کا اسی کی طبیعت اور اسکی قوت کے ساتھ آنا تھا اور کیا خود مسیحؑنے نہ فرما دیا تھا کہ الیاس کا آسمان سے آنا یہی تھا کہ یوحنابپتسمہ دینے والا اسکی خُوبُو کے ساتھ آئے ؟اور کیا نہ کہا گیا تھا کہ جس کسی کے کان سننے کے ہوں وہ سُنے مگر افسوس ! کہ لوگوں نے پھر بھی نہ سُنا اورپھر بھی اسی دھوکے میں پڑے جس میں مسیح ؑکی آمد اوّل کے وقت فقیہی اور فریسی پڑے تھے اور سمجھا کہ مسیح واقع میں آسمان سے اُترے گا۔کیا وہ لوگ جو مسیح ؑکے آسمان پر سے اُترنے کے منتظر ہیں انہوں نے مقدس نوشتوں کی ان پیشگوئیوں پر بھی نظر نہ کی جن میں مسیحؑ کی آمد ثانی کی خبر دی گئی تھی؟کیا انہوں نے پڑھا نہ تھا کہ مسیحؑ نے کہا کہ:- ’’خبر دار کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آویں گے اور کہیں گے کہ مَیں مسیح ہوں اوربہتوں کو گمراہ کریں گے‘‘۔(متی باب ۲۴ آیت ۵ ) اگر فی الواقع اس نے آسمان پر سے ہی آنا تھا تو اس نے کیوں کہا کہ بعض نشانوں سے دھوکا نہ کھانا جب تک دوسرے بھی پورے نہ ہوجائیں؟ اگر اس نے آسمان پر سے اُترنا تھا تو کیا وہ یوں نہ کہتا کہ وہ زمین پر پیدا ہوں گے اور مَیں تو آسمان پر سے آئوں گا اس لئے کسی کو دھوکا لگ ہی نہیں سکتا؟ وہ کیوں ان جھوٹے مسیحوں کے دعویٰ پر صبر کرنے کی تلقین کرتا ہے؟ اورانتظار کا حکم دیتا ہے؟ اورنہیں کہتا کہ جو آسمان سے آئے اسے قبول کرو اورجو نہ آئے اسے قبول نہ کرو ؟اور ایسے بیّن نشان کے ہوتے ہوئے اور کوئی نشان کیوں بتاتا ہے؟پھر اگر مسیحؑکی یہی تعلیم تھی کہ وہ آسمان پر سے ظاہر ہوگا تو شاگردوں نے اس سے کیوں پوچھا کہ تیرے آنے کا نشان کیا ہوگا؟ کیا مسیحؑ کے اانے کا یہ کم نشان تھا کہ وہ آسمانوں پر سے فرشتوں کی فوج سمیت آئے گا؟ اور کیا اس طرح آنے والے کے متعلق لوگ دھوکا کھاسکتے تھے؟ بات یہی ہے کہ مسیح علیہ السلام تمثیلوں میں کلام کرنے کےعادی تھے اوران کے کلام کا یہی مطلب تھا کہ ان کی آمد ثانی اسی رنگ میں ہوگی