انوارالعلوم (جلد 6) — Page 466
ہمارا تحفہ اور وہ یہ خوشخبری ہے کہ وہ جس کی انتظار مسیحی اور اسلامی دنیا یکساں کر رہی تھی اور جس کی آمد کے لئے بڑے اورچھوٹے چشم براہ تھے اور بہت تھے جو حسرت سے آسمان کی طرف نظر اُٹھاتے تھے اور سرد آہوں کے ساتھ اس امر کی خواہش ظاہر کرتے تھے کہ کاش! وہ ان کی زندگیوں میں نازل ہوکہ وہ اس کی دیدار سے مشرف ہوں وہ آگیا ہے اور اس نے اپنےجلال اوراپنے نُور سے دُنیا کو روشن اور منور کردیا ہے۔مگر وہی اس کی آمد سے فائدہ اُٹھاتے ہیں جو سمجھنے اور بُوجھنے کی تکلیف گوارا کرتے ہیں تا کہ وہ جو نوشتوں میں لکھا تھا پورا ہو۔’’کہ تم کانوں سے تو سنو گے مگر سمجھو گے نہیں اور آنکھوں سے دیکھو گے پر دریافت نہ کروگے کیونکہ اس قوم کا دل موٹا ہوا اور وے اپنے کانوں سے اونچا سنتے ہیں اور انہوں نے اپنی آنکھیں موندلیں تا ایسا نہ ہو کہ وے اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور کانوں سے سُنیں اور دل سے سمجھیں اور رجوع لاویں اور مَیں انہیں چنگا کروں۔‘‘ (متی باب ۱۳ -آیت ۱۴،۱۵ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ) وہ جو خدا کی بادشاہت سے دُور رہنا چاہتے ہیں کہتے ہیں کہ خدا کی مقدس کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوگا اور ہم تو اس وقت تک کسی کو نہیں مانیں گے جب تک کہ وہ فرشتوں کے ساتھ بادلوں میں سے اُترتا ہوا دکھائی نہ دے کیونکہ کہا گیا تھا کہ اب آدم کو لوگ بادلوں میں سے بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ اُترتا ہوا دیکھیں گے اور وہ اپنے آگے فرشتوں کو بھیجے گا۔(مرقس باب ۱۳۔آیت ۲۶)٭پس جب تک ہم اسی طرح ہوتا ہوا نہ دیکھیں کسی پر ایمان نہ لائیں گے تا نہ ہو کہ ہم اپنے ایمانوں کو ضائع کردیں اوراپنے یقین کو صدمہ پہنچائیں۔