انوارالعلوم (جلد 6) — Page 421
رؤیت الٰہی کے مدارج کا عُلُوّ یہ رؤیت الٰہی کے مدارج ایسے اعلیٰ ہیں کہ انسان اس دُنیا میں انہیں طے نہیں کرسکتا بلکہ دائمی زندگی میں بھی طے نہیں کرسکتا۔آریہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب انسان کے اعمال دائمی نہیں تو دائمی نجات کیونکر ہوسکتی ہے؟ ہم کہتے ہیں دائمی نجات خدا تعالیٰ کی ایک صفت دینا چاہتی ہے اور وہ صفت احدیث ہے اور صفت احدیث ظاہر نہیں ہوتی۔اگر بندہ کچھ عرصہ کے بعد مرجاتا تو کہ سکتا تھا کہ اگر مَیں اور زندہ رہتا تو خدا تعالیٰ کی حقیقت اورعلم کو معلوم کرسکتا تھا مگر خدا تعالیٰ نے دائمی نجات دے کر کہا لے اب بھی تُو میری حقیقت معلوم نہیں کرسکتا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَلَآ الْاَعْلٰی یَتْلُوْ نَہٗ کَمَا تَتْلُوْنَہٗ ٭ یہ مت سمجھو کہ تم خدا کو دریافت کرسکو گے ملاء اعلیٰ والے بھی اسی طرح اس کی دریافت میںلگے ہوئے ہیں جس طرح تم اس کی دریافت میں لگے ہوئےہو مگر کوئی انتہائی درجہ کا قرب نہیں پاسکتا۔جس طرح دوسرے لوگ اس جستجو میں لگے ہوئے ہیں اسی طرح حضرت موسٰی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی لگے ہوئے ہیں کہ خدا کی ساری صفات کو دیکھیں مگر جوں جوں کو شش کرتے ہیں اور زیادہ صفات نکلتی آتی ہیں اور وہ کبھی ختم ہی نہیں ہوتیں اور نہ کسی ایک صفت کی سیر ہی ختم ہوتی ہے۔غیر محدود انسانی ترقی مگر یہ سُن کر کہ رؤیت کے مدارج لا انتہا ہیں گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ ہم خدا کی ذات کو نہیں دیکھ سکتے اور اس کے دیکھنے کے پیچھے نہیں پڑے ہوئے بلکہ ہم نے اس کی صفات کو دیکھنا ہے اور ان کے غیر محدود ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ہماری ترقی بھی غیر محدود ہے اور ہم بہت بڑی ترقی کرسکتے ہیں۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی شخص کو کوئی سونے کی کان مل جائے اوراسے کھودنے پر اسے معلوم ہو کہ اس کا سونا کبھی ختم ہی نہیں ہوگا تو یہ شخص افسردہ نہیں ہوگا بلکہ خوش ہوگا۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کا کبھی طے نہ ہونا اور اس کی رئویت کے مدارج کا کبھی ختم نہ ہونا ہمارے لئے حوصلہ شکن نہیں ہے بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ہماری ترقی غیر محدود ہے اور ہمارے لئے آگے ہی آگے بڑھنے کا سامان موجود ہے۔اب میں ان رؤیتوں کے بعض وہ موٹے موٹے مدارج بیان کرتا ہوں جو حدیثوں سے