انوارالعلوم (جلد 6) — Page 420
اور روایات ایسی ملتی ہیں جو رؤیت الٰہی کا امکان ثابت کرتی ہیں بلکہ خود ان آیات نے بھی جو رَدّ میں پیش کی جاتی ہیں امکان بلکہ حدوث رؤیت ثابت ہوتا ہے۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ رئویت الٰہی کے کئی درجے ہیں حتّٰی کہ ایک ایسی ادنیٰ درجہ کی رئویت بھی ہے کہ جو بظاہر مؤمن لیکن بہ باطن منافق ہوتا ہے اسے بھی ہوجاتی ہے اوراعلیٰ درجوں کے لحاظ سے اس کے اس قدر درجے ہیں جو کبھی ختم ہی نہیں ہوتے۔مختلف رؤیت ِ الٰہی ذات کی رؤیت تو ایک ہی ہوتی ہے اور ایک ہی ہونی چاہئے لیکن صفات کی رؤیت مختلف ہوتی ہے۔دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت خلیفہ اوّل نے بھی پہچانا اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے بھی مگر حضرت خلیفہ اول کی رؤیت اور تھی اور مولوی عبدالکریم صاحب کی اور۔پس خدا تعالیٰ کی رؤیت چونکہ صفاتی ہے اس لئے لازماً اس کے بہت سے مدارج ہونے چاہئیں کیونکہ جب بھی صفات باری جلوہ گر ہوں گی اس شخص کے درجہ کے مطابق جلوہ گر ہوں گی جو دیکھنے والا ہوگا جیسا جیسا کوئی شخص ہوگا ویسی ویسی اس کو رئویت حاصل ہوگی کیونکہ ہر چیز اپنی جنس کو دیکھ سکتی ہے غیر کو نہیں دیکھ سکتی۔ہم چونکہ مادی ہیں اس لئے مادہ کو دیکھ سکتے ہیں جو ہر کو نہیں دیکھ سکتے۔پھر بعض ایسی چیزیں ہیں جو ہم سے زیادہ اعلیٰ مادہ سے بنی ہیں یا جن کے متعلق ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ مادی ہیں یا اور کوئی چیز ہیں بہر حال وہ ایسی چیزیں ہیں جو ہماری جنس کی نہیں ہیں ان کو ہم نہیں دیکھ سکتے تو جب تک ایک چیز کو دوسرے سے جنسی مناسبت نہ ہو نہیں دیکھ سکتی۔رؤیت الٰہی کےلئے بھی مناسبت ہونی ضروری ہے اور اس مناسبت کے مطابق رئویت ہوگی جو اس میں پائی جائے گی اور خدا تعالیٰ اس مناسبت کے لحاظ سے تنزل کرکے اسے رؤیت ہوگی جو اس میں پائی جائے گی اور خدا تعالیٰ اس مناسبت کے لحاظ سے تنزل کرکے اسے رؤیت ہوگی جو اس میں پائی جائے گی اور خدا تعالیٰ اس مناسبت کے لحاظ سے تنزل کرکے اسے رؤیت کرئے گا۔اس کی مثال ایسی ہی ہےجیسے کوئی شخص ایک اونچی جگہ کھڑا ہو اور مختلف قدوں والے لوگوں نے جو اس کے نیچے کھڑے ہوں اس سے مصافحہ کرنا ہو تو اس وقت اس شخص کو بڑے قد والوں کے لئے کم جھکنا پڑے گا اورچھوٹے قد والوں کے لئے زیادہ اسی طرح رئویت کے معاملہ میں جن لوگوں میں صفات الٰہیہ سے زیادہ مناسبت ہوگی ان کے لئے خدا تعالیٰ کو کم نیچے آنا پڑے گا اورجب میں کم ہوگی ان کے لئے زیادہ اور جتنا خدا زیادہ نیچے آئے گا اتنی ہی رؤیت ادنیٰ ہوگی اورجتنا انسان اعلیٰ ہوگا اتنی ہی رؤیت اعلیٰ ہوگی۔