انوارالعلوم (جلد 6) — Page 411
کی صفات کا دائرہ مقرر ہے اور وہ اپنے اپنے دائرہ میں کام کرتی ہیں اوران میںرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئیٍ کا نظارہ نظر آتا ہے۔مثلاً ایک کافر ہے جو اچھا بھلا ہے اس کے گناہوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے کہ اسے پاگل کردو اوراسے پاگل کردیا جاتا ہے اگر ہمارا اتنا اختیار ہو تو ایسے شخص کاگلا ہی گھونٹ دیں اور اسے مار دیں۔مگر ادھر خدا تعالیٰ کی صفت شدید العقاب کہہ رہی ہوتی ہے کہ اسے پاگل کردو مگر ادھر خدا تعالیٰ کی صفت رزاقی کہہ رہی ہوتی ہے کہ یہ ہمارا بندہ ہے اس کو رزق دو۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی اور صفات بھی جاری ہوتی ہیں۔خدا کی صفات کے متعلق ایک اور قانون دوسرے خدا تعالیٰ کی صفات کے ظہور کے لئے یہ بھی قانون ہے کہ وہ اس قانون کی تائید کرتی ہیں جو قانونِ قدرت کہلاتا ہےا س قانون کے ماتحت انسان کے اعمال یا دُنیا کے تغیرات جو رنگ اختیار کرلیتے ہیں اس کے مطابق خدا تعالیٰ کی صفات ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔گویا اس طرح وہ انسانی اعمال یا طبعی تغیرات کی مددگار ہوجاتی ہیں جیسا جیسا عمل ہو اس کے مطابق نتیجہ نکلتا چلاجاتا ہے۔قرآن کریم میں اس قاعدے کے متعلق فرمایا ہے کہ کُلَّا نُّمِدُّ ھٰٓؤُلَآءِ وَھٰٓؤُلَآءِ (بنی اسرائیل :۲۱)ہر شخص جس قسم کی کوشش کرتا ہے اس کے مطابق ہم قطع نظر اس کے کہ وہ مؤمن ہے کہ کافر نتائج نکالتے رہتے ہیں۔خدا کی صفات کے دو چکر تیسرا قاعدہ ظہور صفات کے متعلق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات دودائروں میں کام کرتی ہیں جس طرح زمین کی دو حرکتیں ہیں ایک اپنے اردگرد اورایک سورج کے گرد اسی طرح خدا تعالیٰ کی صفات کا ایک تو ایسا اثر ہے جو ہر وقت ہوتا رہتا ہے سوائے اس کے کہ احدیث کے مقابلہ میں آئے اگر اس کے مقابلہ میں آئے تو فوراً بند ہوجاتا ہے۔دوسرا چکر ان کا یہ ہے کہ انسان اپنے عمل سے جب ان کے اثر کو کھینچے تو ان کا اثر ظاہر ہوتا ہے ورنہ نہیں۔آگے ان صفات کا کھینچنادو طرح ہوتا ہے۔ایک قانونِ قدرت کی مدد سے اور دوسرے بذریعہ دُعا۔مثال پہلی بات کی یعنی صفاتِ الٰہیہ کے بروقت ظاہر ہونے کی یہ ہے کہ رزق خدا تعالیٰ ایک رنگ میں ہروقت دےرہا ہے انسان کے جسم کے ہرایک ذرّے کو اگر خون نہ ملے تو انسان مرجائے اسی طرح ہوا انسان کے اندر جارہی ہے جس سے خون صاف ہوتا ہے ہروقت خدا تعالیٰ کی صفات یہ ضرورت پوری کررہی ہیں خواہ انسان سوتا ہویاجاگتا ہوش میں ہو یابے ہوشی میں۔اسی طرح ستر ہے ہر وقت ستر ہو