انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 402

جاری کرکے دیکھ لو دُنیا کیا بن جاتی ہے۔اس قانون کے ماتحت بچہ کو نو ماہ کے بعد پیدا نہ ہونا چاہئے بلکہ فوراً پیدا ہوجانا چاہئے۔سوچو تو سہی اس کا کیا نتیجہ نکلے گا سردی کا موسم ہو آدھی رات کا وقت ہو ایک غریب آدمی کی بے خبری میں یکدم بچہ پیدا ہوجائے اس وقت وہ کہاں سے اس کے لئے کپڑا مہیّا کرسکے گا پھر اگر مضبوط آدمی ہوا اور اس نے پھر ایسا ہی فعل کیا جس سے بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو اس وقت ایک اور بچہ پیدا ہوجائے گا اوراگر تیسری دفعہ پھر وہی فعل اس سے ہوا تو تیسرا بچہ پیدا ہوجائے گا اس طرح ایک ایک رات میں بعض لوگوں کے کئی کئی بچے پیدا ہونے ممکن ہوں گے اور صبح ہوتے ہوتے ایک بڑے کنبے کی پرورش کا بوجھ سر پر پڑجائیگا خود ہی اندازہ کرلو کہ اس قانون کےماتحت ایک سال میں یہ تعداد کہاں تک پہنچ سکتی ہے۔ایسی حالت ہوتی تو عورت مرد آپس کے تعلقات سے کانوں کو ہاتھ لگاتے کہ ہم اس کے قریب نہ جائیںگے۔پھر ایک بچہ پیدا ہونے پر عورت کو اس قدر تکلیف ہوتی ہے کہ اس کا بُرا حال ہوجاتا ہے اور ولایت میں تو عورتیں رحم ہی نکلوا دیتی ہیں تا کہ بچہ پیدا ہونے کی تکلیف نہ برداشت کرنی پڑے۔لیکن اگر ایک ہی وقت میں پے درپے بچے پیدا ہوسکتے تو نہ معلوم وہ کیا کرتیں شادی کا ہی نام نہ لیتیں یا پھر ایک ایک مرد کو کئی کئی سو عورتیں کرنے کی اجازت ہوتی۔اگر خدا آہستہ نہ بڑھاتا پھر آہستہ پیدا کرنے والا اعتراض آہستہ بڑھانے پر بھی پڑتا ہے کہ آہستہ آہستہ کیوں خدا بڑھاتا ہے۔اس طرح بھی نہ ہو بلکہ اِدھر بچہ پیدا ہوا ادھر یکدم بڑا ہوگیا۔مگر اس طرح ایک اور مصیبت شروع ہوجائیگی بچہ کے پیدا ہونے پر جوں توں کرکے ماں نے جلدی سے اس کے اندازہ کا کُرتا سیا کہ سردی سے مرنہ جائے لیکن جب وہ پہنانے لگی تو کیا دیکھتی ہے کہ وہ پانچ چھ سال کا بن گیا ہے پھر وہ ساتھ آٹھ سال کے بچہ کے اندازہ کا کپڑا سی کر لائی مگردیکھا کہ وہ تو داڑھی والا مرد بنا بیٹھا ہے۔غرض فوراً پیدائش اوربڑھنے کی وجہ سے دنیا میں ایک آیسی آفت آجائے کہ یہی لوگ جو اعتراض کرتے ہیں کانوں کو ہاتھ لگائیں اور کہہ اُٹھیں کہ ہم نے خدا کی قدرت دیکھ لی اور ہم اعتراضوں سے باز آئے۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی شخص باغ میں گیا اور جا کر دیکھا کہ زمین پر پھیلی ہوئی بیلوں کو تو بڑے بڑے پھل لگے ہوئے ہیں اوربڑے بڑے اونچے درختوں کو چھوٹے چھوٹے۔اس نے کہا