انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 392

دیگر اشیاء کے پیدا کرنے کی وجہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ مخلوق تو وہ ہے جوزی روح ہے ان کے متعلق تم نے کہہ لیا کہ اس کی اپنی جداگانہ ہستی بھی ہے لیکن بجلی وغیرہ نقصان رساں چیزیں کیوں پیدا کی گئی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی چیزیں بھی خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت پیدا ہوئی ہیں اور ہمیشہ سے موجود ہیں یہ نہیں ہوتا کہ جب کسی پر بجلی گرنی ہوتی ہے اس وقت اسے پیدا کرکے بھیجتا ہے اس نے ایک قانون بنا دیا ہے اس قانون کے خلاف جو چلتا ہے وہ ہلاک ہوتا ہے۔پھر ایسی چیزوں میں فائدے بھی ہوتے ہیں بلکہ ان کا فائدہ زیادہ ہے اور نقصان کم ہے۔مثلاً طبعی طور پر جودلوںکو ڈرانے والی چیزیں ہیں ان میں سے سب سے زیادہ خطرناک زلزلہ ہے مگر یہی زلزلہ ہے جس کےذریعہ سے دُنیا قابلِ رہائش بنی ہے اوراب بھی اس کےذریعہ سے تغیرات پیدا ہورہے ہیں جن میں سے بعض کو سائنس دان سمجھتے ہیں اوربعض ابھی ان پر بھی مخفی ہیں۔درحقیقت زلزلہ دنیا کی زندگی کو لمبا کرنے کے لئے آتا ہے اوراس کےذریعہ سے انسان کے لئے ضروری اشیاء کے خزینے پیدا کرنے یا انہیں محفوظ رکھنے کا سامان پیدا کیا جاتا ہے۔انبیاءؑکے وقت اسی لئے زلزلے آتے ہیں کہ دنیا کے قیام کی صورت پیدا ہو۔اسی طرح اگر کسی پر بجلی گرتی ہے تو اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ ایسا شخص ایک عام قانون کی زد میںآگیا ہے اگر وہ مؤمن ہے تو اس کو اس کا بدلہ آخرت میں مل جائے گا۔اوراگر کافر ہے تو اس کو اس کے اعمال کی سزا مل گئی۔مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بجلی سے اگر ایک آدمی مرتا ہے تو لاکھوں کی جان بچتی ہے کیونکہ بجلیوں کےذریعہ سے ہزاروں قسم کے زہر اور زہریلے جرمز مرتے ہیں۔اسی بجلی سے روشنی لی جاتی ہے،ریلیں چلائی جاتی ہیں،کارخانے چلائے جاتے ہیں،لاکھوں آدمی ان بجلی کے کارخانوں میں ملازمت کرکے روٹی کماتے اورزندگی بسر کرتے ہیں،پھر ہزاروں بیماریوںسے لوگ اس کےذریعہ شفاء پاتے ہیں،کئی بیماریاں اس کےذریعہ دور ہوجاتی ہیں۔اس کی موتیں ان لوگوں کو نظر آتی ہیں مگر اس کے زندگی بخش اثر نظر نہیں آتے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اعتراض کرنے سے غرض ہے احقاق حق سے غرض نہیں۔بیماریاں کیا ہیں اور کیوں ہیں؟ دہریے یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا بجلی ،زلزلہ وغیرہ میں اور موذی جانوروں میں تو حکمتیں ہیں مگر بیماریاں کیوں پیدا کی گئی ہیں؟ اسکا جواب یہ ہے کہ پہلے یہ دیکھنا چاہئےکہ بیماری کیا چیز ہے؟ اوّل جب