انوارالعلوم (جلد 6) — Page 391
کس طرح عذاب آتا ؟ پس جس طرح خدا تعالیٰ کی رحیمیتکی صفت چاہتی ہے کہ بندوں پر جلوہ کرے اورانہیں آرام و آسائش پہنچائے۔اسی طرح اس کی شدید العقاب کی صفت کا جلوہ ہونا بھی ضروری تھا اور وہ اسی قسم کی چیزوں کےذریعہ ظاہر ہوسکتی ہے جنہیں نقصان رساں سمجھا جاتا ہے خدا تعالیٰ کی اس صفت پر اعتراض کرنے والوں کی حالت تو ایسی ہی ہے جیسے شُتر مُرغ کے کبھی اونٹ بھی اُڑا کرتے ہیں ؟اس نے کہااگر تجھے اونٹ ہونے کا دعویٰ ہے تو آپھر ہم تجھ پر بوجھ لادیں۔ْکہنے لگا کبھی پرندے پر بھی کسی نے بوجھ لادا ہے؟ وہ اڑنے کے وقت اونٹ بن گیا اور بوجھ لادنے کے وقت پرندہ یہی مثال ان لوگوں کی ہے۔اگر خدا تعالیٰ میں رحم ہی رحم ہوتا تو کہتے اس میں سزا دینے کی طاقت کیوں نہیں ہے اور جب کہ اس میں سزا دینے کی طاقت بھی ہے تو کہتے ہیں یہ کیوں ہے ؟ آٹھواں جواب یہ ہے کہ جب انسان عسر یسر سے گذرتے وقت صبر استقامت سے کام لیتا ہے تو اس پر ترقی کے دروازے کھولے جاتے ہیں کیونکہ تمام ترقیات کے پانے کاذریعہ تنگی اور مشکلات ہی ہیں اورجو انسان ان میں سے کامیابی کے ساتھ گذرتا ہے وہی خدا کے قرب پاسکتا ہے۔پس اگر مشکلات نہ ہوتیں تو گویا انسان کو پیدا ہی نہ کیاجاتا کیونکہ اگر تکلیفیں نہ ہوتیں اوران میں انسان نہ پڑتا تو اس کو خدا کے انعام کس طرح ملتے اورجس غرض کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے وہ کس طرح پوری ہوتی۔دیکھو سکولوں میں لڑکوں کو دوڑاتے ہیں اگر کوئی لڑکا نہ دوڑے تو اس کے لئے انعام کیسا؟ دوڑنے میں بھی تکلیف ہوتی ہے۔مگر جو دوڑتا ہے اسی کو انعام ملتا ہے اور تکلیف کے مطابق ہی ملتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کا قرب جیسا بڑا انعام ہے ویسی ہی بڑی اس کے لئے تکالیف بھی ہیں۔پھر کہتے ہیں جو لوگ اس طرح مرتے ہیں ان کے رشتہ دار کیا کہتے ہوں گئے۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں۔یا تو خدا کو ماننے والے یا نہ ماننے والے۔ماننے والے تو کہیں گے کہ خدا کے قانون قدرت کے ماتحت اپنے عمل کے مطابق یا خدا کی خاص حکمت کے ماتحت مرنے والے نے جان دی ہے اور جو نہیں مانتے انہوں نے جب خدا کو مانا ہی نہیں تو انہوں نے کیا کہنا ہے وہ اپنے ذہنی قانون قدرت کو گالیاں دیتے ہوں گے۔