انوارالعلوم (جلد 6) — Page 390
دیتا رہا۔انہو ں نے کہا اسی ہاتھ سے میں نے کثرت سے میٹھی چیزیں کھائی ہیں اگر ایک چیز کڑوی بھی مل گئی تو کیا حرج تھا۔کیا میں ایسا ناشکر گزار تھاکہ اتنی میٹھی چیزیں کھانے کے بعد ایک کڑوی چیز ملنے پر شور مچا دیتا ؟ غرض شکر گزاری کا پتہ مضرتوں سے ہی لگتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے مضرتیں بھی پیدا کی ہیں تا کہ اس نے بندوں پر جو احسان کئے ہیں ان کے ذریعہ سے دیکھے کہ بندے ان احسانات کی کیا قدر کرتے ہیں اور ان میں سے کون سے شکر کے جذبہ کو قائم رکھتے اور کون سے شور مچا دیتے ہیں۔چھٹا جواب یہ ہے کہ موذی اشیاء کو خدا تعالیٰ نے اس لئے بنایا ہے کہ انسانی فطرت آتی ہیں تا کہ ان کے ڈر کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہو۔جیسے ایک چھوٹا بچہ کہیں جانے لگے اور اسے اِدھر اُدھر سے ڈرایا جائے تو سیدھا جاتا ہے اور کسی گڑھجے وغیرہ میں گرنے سے محفوظ رہتا ہے یا اس طرح کہ جب کوئی جانور ٹیڑھا جارہا ہو اور اسے اِدھر اُدھر جانے سے ڈنڈے کےذریعہ روک دیاجائے تو سیدھا جاتا ہے۔مگر وہ اشیاء بھی ایک قسم کےڈنڈے ہیں جو انسانوں کو سیدھا چلانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔اگر یہ نہ ہوں تو اکثر لوگ جو سیدھے چلتے ہیں ٹیڑھے رستہ پر نکل جائیں۔اگر کہا جائے کہ اچھا ڈر پیدا کیا ہے کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری۔اگر کسی کو شیر کھا جائے یا بیمار مرجائے تو اس کو ڈرانے نے کیا فائدہ دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کسی پر شیر نے یا بیماری نے ایسا حملہ کیا کہ وہ مرگیا تواگر اس حملہ کے وقت اس نے ڈر کر اپنے گناہوں سے توبہ کرلی تو وہ خدا کے انعام کے نیچے آگیا اوراگر اس وقت بھی وہ اپنی شرارت پر مستقل رہا تو پھر ضروری تھا کہ اس کو سزا ملتی۔اس پر شکوہ کیسا؟ پھر دنیا میں ہم دیکھتے ہیں ادنیٰ چیز اعلیٰ کے لئے قربان ہوتی ہے۔اگر اس کے مرنے سے دوسروں کو عبرت حاصل ہوجائے تو پھر کیا ہوااگر وہ مرگیا اس کے مرنے پر کئی دوسرے بچ جاتے ہیں۔ساتواں جواب یہ ہے کہ ان چیزوں کو خدا نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ رحیم ہی نہیں بلکہ شدید العقاب بھی ہے۔جو شریر ہوتے ہیں وہ ان کو ان چیزوں کے ذریعہ سزا دیتا ہے۔اگر بھیڑیا نہ پیدا ہوتا تو وہ شخص جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف شرارت کرنے پر بھیڑیے نے چیرا کس طرح یہ سزا پاتا؟ یا اگر طاعون نہ ہوتی تو مسیح موعودؑکے مخالفوں پر