انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 352

کیا خدا کی کوئی صورت شکل ہے؟ خدا تعالیٰ کے متعلق یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کیا اس کی کوئی صورت شکل بھی ہے اس کا جواب اسلام یہ دیتا ہے کہ اس کی کوئی صورت شکل نہیں۔صورت کےیہ معنی ہوتے ہیںکہ ایک جسم ہےجو مختلف حصے رکھتا ہے اور ہر ایک حصہ کی ایک حد بندی ہے مگر خدا سب حد بندیوں اور سب تقسیموں سے پاک ہے اس لئے اس کی کوئی صورت نہیں ہوسکتی صورت صرف مادی اشیاء کے لئے ہوتی ہے بلکہ ان میں سے بھی کثیف مادی اشیاء کی۔خدا کوئی جسم نہیں رکھتا بلکہ جسموں اور مادے کا خالق ہے۔حدیث میں خدا کی صورت بتانے کا کیا مطلب ہے ؟ اس بیان پر سوال ہو سکتا ہے کہ بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی صورت ہے ان احادیث کا کیا مطلب ہے ؟ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور آپؐنےدیکھا کہ ایک شخص اپنے غلام کو مار رہا ہے۔اس پر آپ ؐنے فرمایا اِنَّ خَلَقَ اٰدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہٖ (مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ ۲۴۴ ،۲۵۱ ،۳۱۵) کہ آدم کو خدا نے اپنی صورت پر بنایا۔پس چاہئے کہ اس کی صورت کا ادب اوراحترام کرو۔اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی صورت ہےورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیوں فرماتے کہ آدم کو خدا نے اپنی صورت پر پیدا کیا ہے تم اس کی صورت کا ادب اوراحترام کرو۔یادرکھنا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کےدو معنی ہیں۔ایک تو یہ ہے کہ صورت کےمعنی عربی میں وصف اور صفت کے بھی آتے ہیں۔اس لئے اِنَّ خَلَقَ اٰدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہٖ کےیہ معنی ہوئے کہ خدا نے آدم کو اپنی صفات پر پیدا کیا ہے۔جیسے فرمایا وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاۗءَ كُلَّھا (البقرۃ: ۳۲)یعنی خدا نے اپنی وہ ساری صفات جو بندوں سے تعلق رکھتی ہیں آدم کو سکھائیں۔یعنی انسان کو خدا نےایسا دماغ دیا کہ جو اس کی صفات کو جلوہ گر کرسکے وہ شخص چونکہ اپنےغلام کےمنہ پر مار رہا تھا اور ممکن تھا کہ اس کے دماغ کو صدمہ پہنچے اس لئے رسول کریم ؐنے اسے فرمایا کہ اس طرح نہ مارو اور جس سے وہ غرض جس کے لئے انسان بنایا گیا ہے وہ باطل ہو جائے گی۔چنانچہ دوسری حدیثوں سے بھی پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم ؐنے فرمایا منہ پر نہیں مارنا چاہئے۔٭وجہ یہ کہ دماغ مرکز ہے ساری صفات کا اور اس کو صدمہ پہنچنے سے صفات کا ظہور رک جاتا ہے۔اس لئے رسول کریم ؐنے فرمایا خدا کی صفات کا ادب کرو۔خدا نے *مسند احمد بن حنبل کلد ۲ ص۲۴۴