انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 350

اعصاب کمزور ہوجاتے ہیں تو اگر یہ درست ہے کہ اندھیرے کا پیدا کرنے والا شیطان ہے تو یہ بھی ماننا پڑگیا کہ خدا نے دنیا کو نا مکمل پیدا کیا تھا شیطان کہ مہربانی سے وہ مکمل ہوئی۔ہندوؤں کا خدا کے متعلق خیال دنیا کا تیسرا بڑا مذہب ہندو ہے۔ان کے عقائد میں بھی خدا تعالیٰ کے متعلق بعض ایسی تعلمیں ہیں جو خدا تعالی کو ناقص ثابت کرتی ہیں یا یہ کہ وہ تعلیمیں عقل کے خلاف ہیں۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا دنیا میں اوتار لیتا ہے اور مخلوق کا جنم لیتا ہے اور یہ عقیدہ ان میں ایسی بری صورت میں پیش کیا جاتا ہے کہ یہاں تک بھی کہہ دیتے ہیں کہ خدا نے جانوروں میں سے سؤ ر اور مگر مچھ کا بھی جنم لیا ہے اگر یہ لوگ غور کرتےتو انہیںمعلوم ہوجاتا کہ خدا کےجنم لینےکے یہ معنی ہیں کہ وہ محدودہے پھر مگر مچھ اور سؤر کی شکل میں اس کا ظاہر ہونا تو اوربھی حقارت پیدا کرنے والا ہے۔اور اس عقیدہ سے بجائے خدا تعالیٰ کی عظمت ثابت ہونے کے اس کی ہتک ہوتی ہے۔اسی طرح ہندوؤں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا اوربہت سے دیوتا ہیں جنکو کارخانہ عالم کے چلانے میں بہت کچھ دخل حاصل ہے۔چنانچہ تین تو بڑے بڑے مظاہر تسلیم کئے جاتے ہیں جن میں سے ایک تو پیدا کرنے والا ہے جسے برہما کہتے ہیں اور ایک رزق دینے والا جسے شِو کہتے ہیں اور ایک مارنے والا جسے وشنو کہتے ہیں۔اس عقیدہ کی وجہ سے ان میں سے اکثر لوگ وِشْنَو اور شِو کی تو پوجا کرتے ہیںمگر برہما کی کوئی پوجا نہیںکرتا کیونکہ خیال کرتے ہیں کہ اس نے تو جو کچھ کرنا تھا کر چکا اب آئندہ تو رزق دینے والے اور مارنے والے سے ہی کام پڑنا ہے اسلئے انہی کی پاجا کرنی چاہئے۔اسکے متعلق ایک لطیفہ بھی بیان کیاجاتا ہے۔کہتے ہیں کوئی راجہ تھا اسکے ہاں لڑکا نہ ہوتا تھا۔وہ برہما کی پرستش کرتا رہا جس کے نتیجہ میں لڑکا پیدا ہوگیا۔پھر اس نے اس کو چھوڑ دیا کہ اب اسکی کیا ضرورت ہے۔اب مارنے والے کی پرستش کرنی چاہئے۔تاکہ بیٹا زندہ رہے۔اس نے اسی طرح کیا،لیکن جب وہ لڑکا جواب ہوا تو اس نے کہ جس نے مجھ پر احسان کیا ہے کہ مجھے پیدا کیاس کی پرستش کرنی اور اور وہ برہما کی پرستش میں لگ گیا اور پر باپ اس سےناراض ہوگیا اور اس کا غصہ بڑھتے بڑھتے اس قدر تیز ہوگیا کہ اس نے مارنے والے پرمیشور سےکہا کہ میرے لڑکے کو مار دے چنانچہ وِشْنَو نے اس لڑکے کو مار دیا مگر برہمانے کہا اس لڑکے نے میری خاطر جان دی ہے اسلئے اسے پھر پیدا کردینا چاہئے۔اس نے اسےپھر پیدا کردیا اور اسی طرح یہ جنگ جاری رہی۔اب مجھےیہ معلوم نہیں کہ اس جنگ کا خاتمہ کس طرح ہوا