انوارالعلوم (جلد 6) — Page 348
اورایک نوکر کو بلا کر دیافت کرنے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اس نے کہا تیرا بھائی آگیا ہے اور تیرے باپ نے پلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا ہے۔اس لئے کہ اسے بھلا چنگا پایا۔وہ غصّے ہوا اور اندر جانا نہ چاہا۔مگر اس کا باپ باہر جاکے اسے منانے لگا۔اس نے اپنے باپ سے جواب میں کہا کہ دیکھ اتنے برس سے میں تیری خدمت کرتا ہوں اور کبھی تیری حکم عدولی نہیں کی۔مگر مجھے تو نے کبھی ایک بکری بچہ بھی نہ دیا۔کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی مناتا۔لیکن جب تیرا یہ بیٹا آیا۔جس نے تیرا مال متاع کسبیوں میں اُڑا دیا تو اس کے لئے تو نے پلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا اس نے اس سے کہا۔بیٹا تُو تو ہمیشہ میر ے پاس ہے اور جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہی لے لیکن خوشی منانی اور شادماں ہونا مناسب تھا کیونکہ تیرا یہ بھائی مُردہ تھا اب زندہ ہوا۔کھویا ہوا تھا اب ملا ہے۔‘‘ (لوقا باب ۱۵ آیت ۱۱ تا ۳۲ برتش اینڈ فارون بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۰۶ء) اس تمثیل سے حضرت مسیح ؑنے یہ بتایا ہے کہ خدا کو بھی بندہ سے ایسا ہی پیار اور محبت ہے اور جو بندہ گناہ کرکے پچھتاتا ہوا خدا کے پاس آتا ہے خدا اس پر اسی طرح رحم کرتا ہے جس طرح باپ اپنے بیٹے پر۔مگر یہ عجبیب بات ہے کہ حضرت مسیحؑتو خدا تعالیٰ کے بندوں سے تعلق کو اوپر کی تمثیل سےواضح کرکے اسے بہترین عفو کرنے والا قرار دیتے ہیں مگر مسیحی اسے ایسا ظالم قرار دیتے ہیں کہ خواہ کوئی کتنی ہی التجا کرے وہ اسے معاف ہی نہیں کرتا۔کیا اس باپ نے جس کی حضرت مسیحؑنے تمثیل دی ہے اپنے آنے والے بیٹے کو پہلے مارا اورپھر معاف کیا تھا۔یا اس کی ندامت کو قبول کرکے بغیر کسی سزا کے معاف کردیا تھا اور اس کے آنے پر خوش ہوا تھا۔اگر اس کے آنے پر باپ نے کہا ہوتا کہ پیٹھ ننگی کر تا کہ پہلے تمہیں سزا دے لوں۔اورپھر چھوڑ دوں گا۔یا یہ کہ پہلے بڑے بیٹے کو بلا کر کفارہ کا خیال درست ہے مگر ایسا نہیں ہوا حضرت مسیحؑنے اس تمثیل کے ذریعہ سے درحقیقت کفارہ کے مسئلہ کو جڑ سے اکھیڑ دیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہےکہ حضرت مسیحؑکو الہام کےذریعہ سے پتہ لگ گیا تھا۔کہ ان کے ماننے والے اس قسم کا عقیدہ بنا لیں گے۔اس لئے انہوں نے اس تمثیل کےذریعہ سے اس زہر کا ازالہ کردیا۔