انوارالعلوم (جلد 6) — Page 325
آپ نے سب دوستوں کو جگایا اور کہا کہ مکان خطرہ میں ہے اس میں سے نکل چلنا چاہئے۔سب دوستوں نے نیند کی وجہ سے پرواہ نہ کی اور یہ کہہ کر سوگئے کہ آپ کو وہم ہوگیا ہے مگر آپ کا احساس برابر ترقی کرتا چلا گیا آخر آپ نے پھر انکو جگایا اورتوجہ دلائی کہ چھت میں سے چر چراہٹ کی آواز آتی ہے مکان کو خالی کردینا چاہئے انہوں نےکہا معمولی بات ہے ایسی آواز بعض جگہ لکڑی میں کیڑا لگ جانے سے آیا ہی کرتی ہے۔آپ ہماری نیند کیوں خراب کرتے ہے مگر آپ نےاصرار کرکے کہا کہ اچھا آپ لوگ میری بات مان کر ہی نکل چلیں آخر مجبور ہو کر وہ لوگ نکلنے پر رضا مند ہوئے حضرت صاحب کو چونکہ یقین تھا کہ خدا میری حفاظت کے لئے مکان کے گرنے کو روکے ہوئے ہے۔اس لئے آپ نے انہیں کہا کہ پہلے تم نکلو پیچھے میں نکلوں گا۔جب وہ نکل گئے اور بعد میں حضرت صاحب نکلے تو آپ نے ابھی ایک ہی قدم سیڑھی پر رکھا تھا کہ چھت کی حالت اس قسم کی تھی نہ آواز ایسی تھی کہ ہر ایک شخص اندازہ لگا سکے کہیہ گرنے کو تیار ہے۔علاوہ ازیں جب تک آپ اصرار کرکے لوگوں کو اُٹھاتے رہے اس وقت تک چھت اپنی جگہ پر قائم رہی اور جب تک آپ نہ نکل گئے تب تک بھی نہ گری مگر جو نہی کہ آپ نے پائوں اُٹھایا چھت زمین پر آکر گری۔یہ امر ثابت کرتا ہے کہ یہ بات کوئی اتفاقی بات نہ تھی بلکہ اس مکان کو حفیظ ہستی اس وقت تک روکے رہی جب تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کی حفاظت اس کے مد نظر تھی اس مکان سے نہ نکل آئے۔پس صفت حفیظ کا وجود ایک بالارادہ ہستی پر شاہد ہے اور اس کا ایک زندہ گواہ ہے۔صفت خالقیت خدا کی ہستی کا ثبوت پانچویں مثال کے طور پر میں صفت خلق کو بیان کرتا ہوں۔یہ بات واضح ہے کہ اگر تمام تخلیق کے علاوہ جو دنیا میں ایک مقررہ قاعدہ کے ماتحت ہو رہی ہے ایک خاص تخلیق بھی ثابت ہوجائے تو ماننا پڑے گا کہ ایک ایسی ہستی ہے جس کی قدرت میں ہے کہ جو چاہے پیدا کرےاور یہ خدا تعالیٰ کے موجود ہونے کا ایک زبردست ثبوت ہوگا۔اس صفت کے ثبوت کے طو ر پر مَیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔آپؐایک دفعہ کہیں جارہے تھے کہ آپ کے ساتھیوں کے پاس جو بانی تھا وہ ختم ہوگیا۔اتنے میں آپ نے دیکھا کہ ایک عورت پانی لئے جارہی ہے۔آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ یہاں سے پانی کتنے فاصلہ پر ہے؟ اس نے کہا تین منزل پر چونکہ ایک لشکر آپ کے ساتھ تھا اور پانی ختم ہوچکا تھا آپؐنے اس سے پانی کا مشکیزہ لے لیا اور اس کے منہ پر اتنا ہاتھ رکھ کر لوگوں