انوارالعلوم (جلد 6) — Page 316
اگر انبیاء کی مخالفت نہ ہوتو لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ کی شان اور شوکت کس طرح ظاہر ہو۔صفت تکلم سے خدا کی ہستی کا ثبوت دوسری صفت جسےمیں اس وقت پیش کرنا چاہتا ہوں صفت تکلم ہے۔اگر ایک ہستی انسان سے کلام بھی کرتی ہے اوراپنے عندیہ اور منشاء کو ظاہر بھی کرتی ہے تو کس طرح کہا جاسکتا ہےکہ انسان سے بالاہستی اورکوئی نہیں اور دُنیا پر کوئی حکمران نہیں قرآن کریم میں آتا ہے اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْھمُ الْمَلٰىِٕكَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۔(حٰمٓ سجدۃ :۳۱)جب مؤمن کہتے ہیں کہ خدا ہے اور اس پر استقامت دکھاتے ہیں تو ان پر خدا فرشتے بھیجتا ہے کہ جائو ان کو سناؤکہ میں واقع میں ہوں تم کوئی خوف اور غم نہ کرو اور وہ جنت کہ جس کا تم سے وعدہ کیاگیا تھا اس کی بشارت پاکر خوش و خرم ہوجاؤ۔ہزاروں اور لاکھوں نبی ایسے ہوئے ہیں جن کو خدا کی طرف سے بتایا گیا کہ مَیں ہوں اوران کی جماعتوں میں بھی ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اوراب ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے خود مجھے بھی اللہ تعالیٰ کے محض فضل سے اس کا تجربہ ہے۔اب اگر کوئی مجھے سنائے کہ خدا نہیں تو مَیں کس طرح اس کی بات مان سکتا ہوں مَیں تو تعجب سے اس کے منہ کو ہی دیکھو گا کہ کیسی بیہودہ بات کہہ رہا ہے۔اگر کوئی فلسفی کہے کہ زید نہیں ہے اور اس کے نہ ہونے کے دلائل بھی پیش کرے مگر زید سامنے بیٹھا ہو تو اس فلسفی کو پاگل ہی کہا جائے گا۔اسی طرح جس نے خدا کی باتیں سنیں اسے اگر کوئی کہے کہ خدا نہیں ہے تو وہ اسےپاگل ہی سمجھے گا۔پس ہزاروں نبیوں اور دوسرے لوگوں کو جو الہام ہوتے ہیں اور وہ خدا کی باتیں سنتے ہیں یہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا ایک زبردست ثبوت ہے۔صفت تکلم پر اعتراض اوراس کا جواب اس دلیل پر یہ اعتراض کیاجاتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ انسانوں سے بولتا اور کلام کرتا ہے تو پھر مذاہب میں اختلاف کیوں ہے؟ اگر خدا بولتا تو کسی کے کان میں کچھ اور کسی کے کان میں کچھ اور کیوں کہتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تو ایک ہی تعلیم ملتی ہے۔ہاں بعد میں لوگ چونکہ اس میں اپنی طرف سے باتیں ملادیتے ہیں اس لئے اختلاف ہوجاتا ہے۔جیسے قانون قدرت خدا تعالیٰ