انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 271

ہے کہ ایسے لوگوں نے خود غور نہیں کیا ہوتا دوسروں کے کہنے پر مانتے ہیں اس لئے اگر کوئی ذرا ٹھوکر لگادے تو کہیں کے کہیں جاگرتے ہیں۔ایسے لوگ اگر خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرتے ہیں تو اس لئے کہ بحثیں نہ کرنی پڑیں۔جیسے غیر احمدیوں کو جب کہیں کہ حضرت عیسیٰؑکی وفات پر گفتگو کرلو تو اس سے بچنے کے لئے کہہ دیتے ہیں فرض کرلو حضرت عیسیٰ مرگئے۔اسی طرح جو لوگ مثلاً مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے ہیں وہ اپنے قومی مذہب کو اپنے مذہب کے خلاف دیکھ کر اور بحث سے بچنے کے لئے جب سوال ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم خدا کو مانتے ہیں اور بعض لوگ تو اپنے آپ کو ذہنی کشمکش سے بچانے کے لئے اپنے نفس کو بھی دھوکے میں رکھتے ہیں اورجب ان کے دل میں شک پیدا ہو تو بلا کسی دلیل کے اس کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ لوگ بھی درحقیقت دہریہ ہیں گو بظاہر خدا کو مانتے ہیں۔لیکن اگر خدا ہے تو اس کے ساتھ ان دھوکا بازیوں سے کام نہیں چل سکتا۔اگر لوگ محض سنے سنائے اسے مانتے ہیں اور بحث سے بچنے کے لئے ماننے کا اقرار کرتے ہیں تو اس سے ان کی نجات نہ ہوسکے گی۔ایسے لوگ قیامت کے دن پکڑے جائیں گے اور دہریوں میں شامل کئے جائیں گے اس لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کے متعلق غور کیا جائے۔خدا کے ماننے کا فائدہ جب کہا جاتا ہے کہ خدا کو مانو تو بعض لوگوں کے دلوں میں ایک دم سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم خدا کے وجود یا عدم وجود کی بحث میں پڑیں ہی کیوں۔اس کا فائدہ ہی کیا ہے؟اب بھی ہم محنت سے کماتے ہیں اگر خدا کو مان کر بھی محنت ہی کرنی پڑے گی اور جو کوشش اب کرتے ہیں وہی پھر بھی کرنی ہوگی تو پھر خدا کے ماننے سے ہماری زندگیوں میں کون سے تغیر ہوا جس کی خاطر ہم یہ جھگڑا سہیڑیں۔یورپین محققین کا جواب یورپ کے لوگوں کے سامنے بھی یہی سوال آیا ہے جس کا جواب انہوں نے یہ دیا ہے کہ اگر خدا کو نہ مانا جائے تو دنیا سے امن اُٹھ جائے گا کیونکہ پولیس تو ہر جگہ نہیں ہوتی۔ہزار ہا لوگ جن کے دل میں چوری کا خیال پیدا ہوتا ہے وہ خدا ہی کے ڈر سے رُکتے ہیں اور اس کے ڈر کی وجہ سے چوری کا ارتکاب نہیں کرتے اس لئے خدا کو ماننا چاہئےاگر چہ واقع میں کوئی خدا نہیں۔مگر سیاستاً خدا کے خیال کو ضرور زندہ رکھنا چاہئےتا کہ دُنیا میں امن قائم رہے۔یہ عقیدہ پہلے پہل روما سے شروع ہوا۔وہاں تین قسم کے خدا مانے جاتے تھے۔ایک عوام کا خدا جسے کبھی عورت کے بھیس میں اور کبھی کسی اور شکل میں ظاہر ہونے والا