انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 258

جماعت احمدیہ کا مشورہ اور فیصلہ قرار دیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ میری خلافت جائز و درست نہیں۔مگر ان ایک سو دس آدمیوں سے بھی دس آدمی بعد میں میری بیعت میں شامل ہوگئے جن میں سے ایک سیّد میر حامد شاہ صاحب مرحوم تھے جن کو انہوں نے خلیفۃ المسیح بھی منتخب کیا تھا اور کل سو آدمی رہ گئے مگر باوجود اس کے اس جلسہ میں جو فیصلہ ہوا وہ جماعت کا فیصلہ تھا اور جو کل جماعت کا فیصلہ تھا وہ سازش کا نتیجہ اور نصار اللہ کی فریب بازی تھی۔ان لوگوں کا قادیان کو چھوڑنا قادیان کی جماعت میں سے سب کے سب سوائے چار پانچ آدمیوں کے میری بیعت میں شامل تھے اور اب قادیان میں کسی کامیابی کی امید یہ لوگ دل سے نکال بیٹھے تھےاس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ لاہور کو مرکز بنایا جائے۔مولوی محمد علی صاحب کے قادیان سےجانےکے لئے عذر تلاش کئے جانے لگے اور آخر ایک دن مجھے اطلاع دی گئی کہ مولوی صاحب جمعہ کی نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے کہ تین چار بچوں نے (جو پانچ سات سال تک کی عمر کے تھے)ان پر کنکر پھینکنے کا ارادہ کا اظہار کیا ہے۔میں نے اس پر درس کے وقت سب جماعت کو سمجھایا کہ گو بچوں نے ایسا ارادہ ظاہر کیا ہے۔مگر پھر ایسی بات سُنی گئی تو مَیں ان کے والدین کو ذمہ دار قرار دوں گا اور سختی سے سزا دوں گا۔مولوی محمد علی صاحب کو قادیان سے جانے سے باز رکھنے کی کوشش بعد میں مَیں نے سنا کہ مولوی محمد علی صاحب کو یہاں خوف ہے اس لئے وہ قادیان سے جانا چاہتے ہیں۔مَیں نے ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو ایک خط لکھ کر دیا کہ آپ مولوی محمد علی صاحب کے پاس جاویں اوران کو تسلّی دیں کہ آپ کسی قسم کی فکر نہ کریں میں آپ کی حفاظت کا ذمہ دار ہوں اور آپ قادیان نہ چھوڑیں۔خط میں بھی اسی قسم کا مضمون تھا۔خط کا جواب مولوی محمد علی صاحب نے یہ دیا کہ یہ کب ہوسکتا ہے کہ مَیں قادیان چھو ڑ دوں۔مَیں تو صرف گرمی کے سبب پہاڑ پر ترجمہ قرآن کا کام کرنے کے لئے جاتا ہوں اوراس کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الاّول کی زندگی میں ہی میں نے انجمن سے رخصت لے رکھی تھی اور میرا شکریہ بھی ادا کیا کہ مَیں نے ان کی ہمدردی کی۔مَیں نے صرف اسی قدر کافی نہ سمجھا بلکہ اس کے بعد ان سے اسی مضمون کے متعلق زبانی گفتگو کرنے کے لئے خود ان کے گھر پر گیا۔میرے ہمراہ خان محمد علی خان صاحب اور ڈاکٹر رشید الدین صاحب تھے۔جب ہم وہاں پہنچے تو ابتداءًکچھ ذکر ترجمہ قرآن کے متعلق ہوا۔اس کے بعد مَیں نے اس امر کے متعلق کلام کا رُخ پھیرا۔جس کے لئے مَیں آیا تھا کہ فوراً