انوارالعلوم (جلد 6) — Page 252
نصف کے قریب لوگوں نے بیعت نہ کی۔‘‘ (۲۲؍مارچ ۱۹۱۴ء) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح کے صحبت یافتہ لوگوں میں سے کسی نے بیعت نہ کی۔اورجو لوگ قادیان میں موجود تھے ان میں سے نصف نے انکار کردیا۔مگر حق یہ ہے کہ پچاس سے زائد آدمی نہ تھے جنہوں نے بیعت سے اجتناب کیا اور اس دو یا بقول پیغام اڑھائی ہزار آدمیوں میں سے نصف سے زیادہ وہ لوگ تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی صحبت حاصل کی ہوئی تھی قادیان کے مہاجرین میں سے جن کی تعداد تین چار سو سے کم نہ تھی کل چار پانچ آدمی بیعت سے باہر رہے۔اور یہ لوگ پیغام کی نظر میںگویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح کے صحبت یافتہ ہی نہ تھے۔مرزا یعقوب بیگ صاحب سیکرٹری احمدیہ انجمن اشاعتِ اسلام لاہور نے تو اس سے بھی بڑھ کر کمال کیا اور اخبار عام لاہور میں لکھ دیا کہ کثیر التعداد حاضرین کو اس بات کا پتہ بھی نہیں کہ کون خلیفہ مقرر ہوئے ہیں جب اس صریح جگھوٹ پر نوٹس لیا گیا۔تو ڈاکٹر صاحب اوّل الذکر مضمون کے راقم نے ۲ ؍اپریل کے پیغام میں شائع کیا کہ میری مراد اس فقرہ سے یہ تھی کہ سمجھدار لوگوں میں سے زیادہ حصہ نے بیعت نہ کی۔اور یہ سمجھداری کا فقرہ ایسا گُول مول ہے کہ اس کی تشریح دربطن شاع ہی رہ سکتی ہے دوسرے سمجھدار ہیں اور دوسرے لوگ ناسمجھ ،لیکن اگر سمجھ کا کوئی معیار ہے تو ہر ایک معیار کے مطابق ہم بتا سکتے ہیں کہ نہ صرف زیادہلوگوں نے بلکہ بہت زیادہ لوگوں نے بیعت اختیار کی۔راقم مضمون نے اور اس کے مضمون کو شائع کرکے پیغام نے ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کے اس جھوٹ کی خود ہی تردید کی کیونکہ اس نے لکھا کہ مجمع حاضرالوقت یا انصار اللہ تھے یا جٹ جو بیعت کے لئے تڑپ رہے تھے اورجنہوں نے فوراً بیعت کرلی۔وہ لوگ انصار اللہ تھے یا کون اس کا سوال نہیں جو لوگ بھی تھے خود پیغام کی روایت کے مطابق نہ صرف انہوں نے بیعت کی بلکہ وہ بیعت کے لئے تڑپ رہے تھے اورڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے صریح اوربالکل صریح جھوٹ لکھا تھا کہ کثیر التعداد حاضرین کو اس امر کا علم بھی نہ تھا کہ خلیفہ کون ہوا ہے۔پیغام کے مضمون نگار کا یہ جھوٹ کہ کثیر التعداد بیعت کنندگان میں سے انصار اللہ تجھے صر ف اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ انصار اللہ کی کل تعداد پونے دوسو سے کم تھی۔لیکن سب انصار اللہ اس وقت قادیان میں موجود نہ تھے حالانکہ خود انہی کے بیان کے مطابق اس وقت اڑھائی ہزار کے