انوارالعلوم (جلد 6) — Page 251
میرا نام لیا۔جس کے بعد مولوی محمد احسن صاحب نے کھڑے ہو کر ایک تقریر کی اور کہا کہ میرے نزدیک بھی یہی خلیفہ ہونے چاہئیں۔اس پر لوگوں نے شور کیا کہ بیعت لی جاوے۔مَیں نے اس امر میں پس وپیش کیا اورباوجود لوگوں کے اصرار کے انکار کیا۔مگر لوگوں کا جوش اسی طرح زور پر تھا جس طرح حضرت ابوبکرؓ کے وقت میں اور وہ ایک دوسرے پرٹوٹے پڑتے تھے۔اوربعض لوگوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا کہ آپ بیعت لیں۔مَیں نے پھر بھی پس وپیش کیا تو بعض لوگوں نے جو قریب بیٹھے تھے اصرا ر کیا کہ جماعت کی حفاظت اوربچاؤ کے لئے آپ ضرور بیعت لیں۔اورمیں نے دیکھا کہ لوگ بیعت کے جوش سے اس قدر بھرئے ہوئے تھے اور آگے کی طرف بڑھ رہے تھے کہ میں بالکل آدمیوں میں چُھپ گیا۔اوراگر بعض لوگ ہمت کرکے میری پیٹھ کے پیچھے حلقہ نہ بنا لیتے تو قریب تھا کہ مَیں کُچلا جاتا۔مجھے بیعت کے الفاظ یاد نہ تھے اور مَیں نے اسی بات کو عذر بنانا چاہا اور کہا کہ مجھے بیعت کے الفاظ یاد نہیں ہیں۔اس پر مولوی سیّد سرور شاہ صاحب نے کہا کہ میں الفاظ بیعت دہراتا جاؤں گا آپ بیعت لیں۔تب مَیں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ کا یہی منشاء ہے اور اس کے منشاء کو قبول کیا اورلوگوں سے بیعت لی اور جوازل سے مقدّر تھا باوجود میرے پہلو تہی کرنے کے ظہور میں آیا۔ان دوہزار کے قریب آدمیوں میں سے جو اس وقت وہاں موجود تھے صرف پچاس کے قریب آدمی ہوں گے جو بیعت سے باز رہے۔باقی سب لوگ بیعت میں داخل ہوئے اس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کا جنازہ پڑھایا گیا۔بیعت ہوگئی اور اس سے زیادہ لوگوں نے بیعت کی جنہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّؒ کی بیعت کی تھی اور اس سے زیادہ مجمع نے بیعت پر اتفاق کیا جتنے مجمع نے کہ حضرت خلیفہ اول کی بیعت پر اتفاق کیاتھا۔مگر باوجود اس کے مولوی صاحب اور آپ کے رفقاء کی تسلّی نہ ہوئی اور انہوں نے اس سب کارروائی کو منصوبہ قرار دیا۔اور تمام جماعت کو اطلاع دی گئی کہ خلافت کا فیصلہ کوئی نہیں ہوا۔قادیان میں جو کارروائی ہوئی سب دھوکا اور سازش کا نتیجہ تھی۔پیغام کی غلط بیانیاں مخالفت کا جوش اس قدر بڑھ گیا کہ جھوٹ کا پرہیز بالکل جاتا رہا خود پیغام لکھتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح کا جنازہ اڑھائی ہزار آدمیوں نے پڑھا،(۱۷؍مارچ ۱۹۱۴ء ) اورپھر یہی پیغام لکھتا ہے کہ :- ’’وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح کی آنکھیں دیکھی ہوئی تھیں انہوں نے اس قسم کی بیعت سے احتراز کیا اور حاضر الوقت جماعت میں سے