انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 235

نہیں۔آپ نےجو کچھ فرمایا ہوگا خفیوں کی کتابوں سے ہی فرمایا ہوگا۔مگر جس قدر کتب امام ابو حنیفہ ؒ کے اقوال کے بیان میں ہیں ان میں سے ایک میں بھی یہ قول درج نہیں پس ایسے بیہودہ قول کو ایسے امام کی طرف منسوب کرنا حضرت خلیفہ المسیح کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ضرور ہے کہ یہ مولوی محمد علی صاحب کے دماغ کی اختراع ہو یا حضرت خلیفۃ المسیح کی کس بات کو نہ سمجھ کر انہوں نے اس طرح لکھ دیا ہو۔ان دونوں صورتوں میں یہ رسالہ حضرت خلیفۃ المسیح کا پسندیدہ اوران کے منشاء کے مطابق نہیں ہوسکتا یہ تین شاہد اندرونی ہمارے پاس موجود ہیں جو شہادت دیتے ہیں کہ یہ رسالہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا پسندیدہ نہیں۔لیکن ہم ان شواہد کے علاوہ یہ امر بھی دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ قریباً ایک ماہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات سے پہلے یہ رسالہ حضرت خلیفۃ المسیح کو سنایا گیا ہے اسے شائع آپ کی وفات کے بعد کیا گیا۔حالانکہ اس کے بعد کا لکھا ہوا یک مضمون جو اس سے بڑا ہے اس سے پہلے چھاپ کر شائع کیا گیا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس خاص حکمت کے ماتحت اس کی اشاعت رو کی گئی تھی اور وہ حکمت اس کے سوا اور کیا تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کا انتظار کیا جاتا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح کی وصیت حضرت خلیفۃ المسیح کی بیماری چونکہ زیادہ ہوگئی۔فروری ۱۹۱۴ء؁ میں ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ آپ قصبہ سے باہر کسی جگہ رہیں تا کہ کُھلی ہَوا کے مفید اثر سے فائدہ اُٹھا سکیں۔خان محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ نے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے رشتہ دامادی رکھتے ہیں اپنی کوٹھی کے ایک حصہ کے خالی کردینے کا انتظام کردیا۔اورآپ وہاں تشریف لے گئے۔چونکہ آپ کی طبیعت زیادہ کمزور ہوتی جارہی تھی مَیں بھی وہیں جارہا۔چار مارچ کو عصر کے قریب آپ نے کاغذ قلم و دوات منگوایا اور لیٹے لیٹے ایک وصیّت لکھی۔جس کا مضمون یہ ہے:- ’’خاکسار بقائمی ہوش و حواس لکھتا ہے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ میرے بچے چھوٹے ہیں۔ہمارے گھر میں مال نہیں۔انکا اللہ حافظ ہے۔ان کی پرورش یتامیٰ و مساکین سے نہیں۔کچھ قرضِ حسنہ جمع کیا جائے لائق لڑکے ادا کریں۔یاکتب جائداد وقف علی الاولاد ہو۔میرا جانشین متقی ہو۔ہردلعزیز عالم باعمل۔حضرت صاحبؑ کے پُرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی دَرگزر کو کام میں لاوے۔مَیں سب کا خیر خواہ تھا۔وہ بھی خیر خواہ رہے۔قرآن و حدیث کا درس جاری رہے۔والسلام‘‘ نورالدین ۴ ؍مارچ ۱۹۱۴ء (الحکم ۷مارچ ۱۹۱۴ء؁ جلد ۱۸ نمبر ۲ صفحہ ۵)