انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 213

گئے ہیں۔ان کی مدد مسلمانوں پر فرض ہے۔سوسال کا خرچ تو خواجہ صاحب کے پاس تھا ہی۔اسی عرصہ کے بعد اگر وہاں زیادہ ٹھہرنے کا منشاء ہو تو اس کے لئے ابھی سے کوشش کردی گئی۔خواجہ صاحب کے ولایت جانے کا اثر خواجہ صاحب کے اس طرح ولایت جانے پر وہ جوش جو خواجہ صاحب کے خلاف جماعت میں پھیل رہا تھا کہ وہ سلسلہ کی تبلیغ نہیں کرتے اور ایسے طریق کو اختیار کر رہے ہیں۔جس سے سلسلہ کی خصوصیات کے مٹ جانے کا اندیشہ ہے دب گیا۔اورخواجہ صاحب کی اس قربانی پر ایک دفعہ پھر جماعت خواجہ صاحب کے گرد جمع ہوگئی مگر بہت کم تھے جو حقیقتِ حال سے واقف تھے۔سفرِ مصر اور خاص دُعائیں ان ہی دنوں میں مجھے مصر کے راستہ سے حج کے لئے جانے کا موقع ملا۔گو میرا ارادہ ایک دو سال مصر میں ٹھہرنے کا تھا۔مگر حج کے بعد مصر جانےمیں کچھ ایسی روکیں پیدا ہوئیں کہ مَیں نے واپس آجانا مناسب سمجھا۔اس سفر میں دعاؤں کے ایسے بیش بہا مواقع نصیب ہوئے کہ مَیں سمجھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کو قدم ثبات حاصل ہونے میں ایک حصہ ان دُعاؤں کا بھی ہے۔فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔حضرت مسیح موعودؑ کے ایک کشف کو خواجہ صاحب کا اپنے اوپر چسپاں کرنا خواجہ صاحب کو ولایت گئے ابھی کچھ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھاکہ ان کو ایک ہندوستانی مسلمان کی یورپین بیوی سے جس کا ایک مسلمان سے بیاہ اسے اسلام کے قریب کر ہی چکا تھا۔ملاقات کا موقع ملا۔خواجہ صاحب کے مزید سمجھانے پر اس نے اسلام کا اعلان کردیا۔خواجہ صاحب نے اس کا خوب اعلان کیا اورلوگوں کو عام طور پر توجہ ہوگئی کہ خواجہ صاحب ایک عمدہ کام کررہے ہیں۔احمدیوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے خواجہ صاحب نے یہ لکھنا شروع کیا کہ یہ عورت حضرت مسیح موعودؑ کے ایک کشف کے ماتحت مسلمان ہوئی ہے۔اس کشف کا مضمون یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ ولایت گئے ہیں اوروہاں سفید رنگ کے کچھ پرندے پکڑے ہیں چنانچہ اصل الفاظ یہ ہیں:- ’’مَیں نے دیکھا کہ مَیں شہر لندن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اورانگریزی زبان میں ایک نہایت مدلّل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کررہا ہوں۔بعد اس کے مَیں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھےاوران کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر کے جسم کے موافق ان کا جسم ہوگا۔سو مَیں نے اس کی یہ تعبیر کی۔کہ اگرچہ