انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 207

تھا۔بلکہ یہ انجمن تبلیغ کا کام کرتی تھی اور ان میں سے بعض نے لینے ان کے واعظ محمد حسین عرف مرہم عیسیٰ اور ماسٹر فقیر اللہ سپر نٹنڈنٹ دفتر سیکرٹری اشاعت اسلام لاہور نے یہ شہادت دی بھی ہے اس انجمن کے قریباً پونے دو سو ممبر ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں تبلیغ کا جوش نہ صرف اس کے ممبران میں ہی بلکہ دوسرے لوگوں میں بھی پیدا ہوگیا اور ایسے لوگ جو سست ہوگئےتھے چست ہوگئے اور جو پہلے سے ہی چست تھے وہ تو چست ہی تھے۔خواجہ صاحب نے بھی اس خیال سے کہ دیکھوں اس انجمن میں کیا بھید ہے۔اس میں داخل ہونا چاہا۔لیکن سات دن کا استخارہ غالباً ان کے راستہ میں روک ہوا یا کوئی اور باعث ہوا جو اس وقت میرے ذہن میں نہیں ہے۔طریق تبلیغ کے متعلق الٰہی اشارہ چونکہ انجمن انصاراللہ کا قیام تبلیغ سلسلہ احمدیہ کے لئے تھا اس لئے میں اس جگہ ضمناًیہ بھی ذکر کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ جس طرح خلافت کے مسئلہ کے متعلق مَیں نے اس وقت تک آگے آنے کی جرأت نہیں کہ جب تک کہ مجھے رئویا میں اس کے متعلق بتایا نہیں گیا۔اسی طرح تبلیغ کے طریق کے متعلق بھی بغیر استخارہ اور دُعا اورا لٰہی اشارہ کے مَیں نے کچھ نہیں کیا۔چنانچہ خواجہ صاحب کے طرزِ تبلیغ کو دیکھ کر جب جماعت میں اعتراضات ہونے شروع ہوئے تو مَیں نے اس وقت تک کوئی طریق اختیار نہیں کیا۔جب تک کہ دُعا و استخارہ نہیں کرلیا۔اس استخارہ کے بعد مجھے رئویا میں خواجہ صاحب کے متعلق دکھا یا گیا کہ وہ خشک روٹی کو کیک سمجھے ہوئے ہیں اور اسی کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اس پر مَیں نے ان کے اس رویہ کی تردید شروع کی۔ورنہ پہلے بالکل خاموش تھا۔خلیفہ اوّل کی پردہ پوشی جیسا کہ مَیں پہلے لکھ چکا ہوں۔اس وقت عام طور پر جماعت معاملات کو سمجھ گئی تھی۔اوراحمدیوں نے سمجھ لیا تھا کہ خواجہ صاحب ہمیں کدھیر کو لئے جارہے ہیں اور اکثر حصہ جماعت کا اس بات پر تیار ہوگیا تھا کہ وہ اندرونی یا بیرونی دشمنوں کی کوششوں کا جو ان کو مرکز احمدیت سے ہٹانے کے لئے کی جارہی ہیں مقابلہ کرے۔مگر چونکہ خواجہ صاحب اوران کے رفقاء نے خلافت کے متعلق یہ رویہ اختیار کرلیا تھا کہ بظاہر اس مسئلہ کی تائید کی جائے۔اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں اکثر حاضر ہوکر ان سے اظہارِ عقیدت کی جاوے اس لئے جماعت کو ان کے حالات سے پوری طرح آگاہی نہ حاصل ہوسکی۔ورنہ جس قدر آج کل ان کا اثر ہے وہ بھی نہ رہتا۔حضرت خلیفۃ المسیح کو ان لوگوں نے یقین دلایا تھا کہ یہ لوگ خلافت کے قائل ہیں