انوارالعلوم (جلد 6) — Page 204
اطاعت بوجہ خلافت نہیں کی جاتی بلکہ بوجہ پریذیڈنٹ انجمن ہونیکےاسکی رائےکا احترام کیا جاتا ہے۔دوسری تدبیر خود اپنے ہی ہاتھوں سے اکارت چلی گئی۔جونہی خواجہ صاحب کو کچھ شہرت حاصل ہوئی۔وہ اپنے وجود کو آگے لگے اورلوگوں کی توجہ بھی ان کی طرف ہی پھر گئی اورمولوی صاحب خود ہی پیچھے ہٹ گئے۔اوران کی رائےکا وہ اثر نہ رہا جو پہلے تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح کا ۱۹۱۰ءمیں بیمار ہونا ۱۹۱۰ ء کے آخری مہینوں میں حضرت خلیفۃ المسیح گھوڑے سے گِر گئے اور کچھ دن آپ کی حالت بہت نازک ہوگئی۔حتّٰی کہ آپ نے مرزا یعقوب بیگ صاحب سے جو اس وقت آپ کے معالج تھے دریافت کیا کہ مَیں موت سے نہیں گھبراتا آپ بے دھڑک طبی طور پربتا دیں کہ اگر میری حالت نازک ہے تو مَیں کچھ ہدایات وغیرہ لکھوا دوں۔مگر چونکہ یہ لوگ حضرت مولوی صاحب کا ہدایات لکھوانااپنے لئے مضر سمجھتے تھے۔آپ کو کہا گیا کہ حالت خراب نہیں ہے۔اوراگر ایسا وقت ہوا تو وہ خود بتادیں گے مگر وہاں سے نکلتے ہی ایک مشورہ کیا گیا اور دوپہر کے وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب میرے پاس آئے کہ ایک مشورہ کرنا ہے آپ ذرا مولوی محمد علی صاحب کے مکان پر تشریف لے چلیں۔میرے نانا صاحب جناب میر ناصر نواب صاحب کو بھی وہاں بلوایا گیا تھا۔جب مَیں وہاں پہنچا تو مولوی محمد علی صاحب ،خواجہ صاحب ،مولوی صدر الدین صٓحب اورایک یا دو آدمی وہاں پہلے سے موجود تھے۔خواجہ صاحب نےذکر شروع کیا کہ آپ کو اس لئے بلوایا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کی طبیعت بہت بیمار اور کمزور ہے۔ہم لوگ یہاں ٹھہر تو سکتے نہیں لاہور واپس جان ہمارے لئے ضروری ہے۔پس اس وقت دوپہر کو جو آپ کو تکلیف دی ہے تو اس سے ہماری غرض یہ ہے کہ کوئی ایسی بات طے ہوجاوے کہ فتنہ نہ ہو۔اور ہم لوگ آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو خلافت کی خواہش نہیں ہے۔کم سے کم مَیں اپنی ذات کی سنبت تو کہہ سکتا ہوں کہ مجھے خلافت کی خواہش نہیں ہے۔اورمولوی محمد علی صاحب بھی آپ کو یہی یقین دلاتے ہیں۔اس پر مولوی محمد علی صاحب بولے کہ مجھے بھی ہرگز خواہش نہیں۔اس کے بعد خواجہ صاحب نے کہا کہ ہم بھی آپ کے سوا خلافت کے قابل کسی کو نہیں دیکھتے اور ہم نے اس امر کا فیصلہ کرلیا ہے۔لیکن آپ ایک بات کریں کہ خلافت کا فیصلہ اس وقت تک نہ ہونے دیں۔جب تک کہ ہم لاہور سے نہ آجاویں۔ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص جلد بازی کرے اورپیچھے فساد ہو۔ہمارا انتظار ضرور کرلیا جائے۔میر صاحب نے تو انکو