انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 169

اس مبحث پر شائع ہوا ہے وہی ہے جو حضرت خلیفہ اوّل کے وقت میں شائع ہوا ہے۔پس اگر یہی مسئلہ میری خلافت کے منسوخ ہونے کے لئے دلیل ہے تو سیّد صاحب پر الزام آتا ہے کہ اس عقیدہ کے رکھتے ہوئے انہوں نے میری خلافت کی تائید کیوں کی؟ علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئےکہ اس مجلس سے پہلے جس میں خلافت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کیا۔مولوی محمد علی صاحب مجھ سے ملنے آئے تھے اور اس وقت مولوی سید محمد احسن صاحب،ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور نواب محمد علی خان صاحب جاگیردار مالیر کوٹلہ بھی موجود تھے۔مولوی محمد علی صاحب نے اس وقت سوال ہی یہ اُٹھایا تھا کہ خلافت کا فیصلہ اس وقت اس لئے مشکل ہوگیا ہے کہ عقائد کا آپس میںاختلاف ہے۔ایک جماعت مرزا صاحبؑکو نبی اوران کے منکروںکو کافر کہتی ہے اور دوسری اس امر کی منکر ہے۔اور اس پر مولوی سید محمد احسن صاحب ہی تھے جو ان سے ان عقائد کی سچائی پر بحث کرنے لگے تھے مگر مَیں نے ان کو روکا تھا کہ اس وقت عقائد کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔اس وقت تو ہمیں یہ غور کرنا چاہئےکہ اس عقدہ کو حل کیونکر کیا جاوے۔عقائد کے تصفیہ کے لئے تو ایک طویل عرصہ چاہئے۔مَیں اس امر کی صداقت کے لئے حلف اُٹھانے کے لئے تیار ہوں۔کیا مولوی محمد علی صاحب بھی اس امر پر حلف اُٹھانے کے لئے تیار ہیں کہ انہوں نے ان دونوں مسئلوں کا ذکر اس مجلس میں نہیں کیا تھا اور سیّد محمد احسن صاحب ان لوگوں میں سے نہ تھے جنہوں نے ان عقائد کی صحت پر ان سے گفتگو شروع کردی تھی۔نبوت مسیح موعود ؑ کے متعلق میری ایک تقریر اور مولوی سیّد محمد احسن صاحب کی تائید باقی رہا مسئلہ نبوت-اس کے متعلق بھی جیسا کہ مَیں پہلے لکھ آیا ہوں ۱۹۱۰ء ؁کے جلسہ کے موقعہ پر مَیں نے ایک تقریر کی تھی اور صاف طور پر کہا تھا کہ مرزا صاحبؑنبی ہیں۔اس تقریر کے بہت سے فقرے میں پہلے نقل کر آیا ہوں۔اس جگہ صرف ایک فقرہ پر اکتفا کرتا ہوں’’ ایک نبی ہم میں بھی خدا کی طرف سےا ٓیا اگر اس کی اتباع کریں گے تو وہی پھل پائیں گے جو صحابہ کرامؓ کے لئے مقرر ہوچکے ہیں٭‘‘ اس فقرہ میں نہ صرف حضرت مسیح موعودؑ کو نبی کہا گیا ہے بلکہ آپ کا درجہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ کے متبع صحابہ ؓ کا رنگ رکھتے ہیں۔اس تقریر کے وقت مولوی سید محمد احسن صاحب موجود تھے اور لیکچر کے ختم ہوتے ہی بلند آواز سے یہ آیۃ کریمہ پڑھنے لگے کہ لَایَخَافُوْنَ لَوْ مَۃَ لَآئِمٍ (المائدۃ :۵۵) بلکہ دوسرے دن آپ نے مسجد اقصیٰ میں ایک تقریر کی تو اس میں بھی میری اس تقریر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ایک یہ بھی الہام تھا کہ اِنَّا نُبَشَّرُکَ بِغُلَامٍ(تذکرہ صفحہ ۲۴۶ایڈیشن چہارم) مظھر الحق والعلا الخ (تذکرہ صفحہ ۱۳۹ایڈیشن چہارم) جو اس حدیث کی پیشگوئی کے مطابق تھا جو مسیح موعودؑ کے بارے میں ہے کہ یَتَرَوَّجُ وَیُوْلَدُ لَہٗ (مشکوٰۃ کتاب الفتن باب نزول عیسیٰ) یعنی آپ کے ہاں ولد *بدر ۱۹ جنوری ۱۹۱۱ءجلد ۱۰ نمبر۱۲ ص۷