انوارالعلوم (جلد 6) — Page 149
مضمون کفرو اسلام پر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی اصلاح اور چھاپنے کی دوبارہ اجازت اس جواب سے ظاہر تھا اور یہی واقعہ تھا کہ جو جو جگہیں حضور کے نزدیک سخت تھیں ان پر آپ نے نشان کردیا تھا۔اور یہ بھی کہ بعض کمزور احمدیوں کی نسبت جو الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔صرف وہ آپ کو ناپسند تھے۔کیونکہ جو آیت آپ نے لکھی ہے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کی نسبت ہے۔نہ کہ نہ ماننے والوں کی نسبت اورایسے فقرات آپ نے کاٹ دئیے تھے۔اورپھر ساتھ اس کے چھاپنے کی دوبارہ اجازت بھی دی۔اس پر مَیں نے مضمون چھاپنے کے لئے دے دیا۔حضرت خلیفۃ المسیح نے یہ بھی فرمایا کہ پروف بھی مجھے دکھا لینا۔چنانچہ رسالہ تشحیذ کے مینجرصاحب کو کہہ دیا گیا کہ پروف دکھائے بغیر رسالہ طبع نہ ہو مجھے کچھ کام تھا۔مَیں امرتسر کچھ دنوں کے لئے چلا گیا۔پیچھے یہ مشہور ہوگیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کو تریاق القلوب کا ایک حوالہ دکھایا گیا تھا۔جس سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے کی ہے۔آپ کو دکھائی۔اورپھر یہ سوال پیش کیا کہ اگر آپ کو ناپسند ہے تو مَیں اس مضمون کی اشاعت کو روک دوں اس کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح نے مجھے فرمایا کہ میں منافق نہیں ہوں۔آپ اس مضمون کو شائع کریں۔یعنی مَیں نے اجازت منافقت سے نہیں دی۔میری غرض بار بار پیش کرنے کی یہ تھی کہ کسی کو اعتراض کی گجائش نہ رہے۔اس کے بعد مضمون کے پروف بھی آپ کو دکھائے گئے۔اور چونکہ پروف کے دیکھنے میں حضرت خلیفۃ المسیح کو کچھ دیر لگی۔ہمارے احباب نے پھر مشہور کردیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے پتھر پر سے کٹوادئیے ہیں اور مضمون کی اشاعت سے روک دیا ہے۔مگر آخر پروف بھی حضرت خلیفۃ المسیح نے دیکھ لئے اور تب جا کر وہ مضمون شائع کیا گیا۔ان تمام واقعات سے ثابت ہوتا ہےکہ یہ مضمون سرسری طور پر شائع نہیں ہوا۔بلکہ دو دفعہ خود حضرت خلیفۃ المسیح نے شروع سے آخر تک پڑھا۔متعدد جگہ خود اصلاح فرمائی (آپ کا اصلاح کردہ مسودہ میرے پاس اب تک پڑا ہے۔جو میرے بیان پر شاہد ہے) پھر بار بار آپ کے سامنے اس کی اشاعت کا سوال آیا۔پس یہ مضمون گو مَیں نے ہی تحریر کیا ہے۔مگر اس لحاظ سے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے اسے بار بار دیکھا ہے اور اس کی اصلاح اپنی قلم سے فرمائی ہے۔آپ کا مضمون ہی کہا جاسکتا ہے۔مضمون کفرو اسلام کا خلاصہ اب مَیں اپنے اس مضمون کا خلاصہ اس جگہ دیتا ہوں اوربعض خاص خاص فقرات بھی نقل کروں گا۔جس سے ہر ایک شخص یہ تنیجہ نکال