انوارالعلوم (جلد 6) — Page 148
سیّد نا و امامنا! السلام علیکم ! چونکہ حضور نے مضمون پر تو کوئی ایسا نشان لگایا نہیں جس سے معلوم ہوکہ کونسا لفظ سخت ہے۔اور میں دوبارہ پڑھو ں بھی تو مجھے سمجھ نہیں آئے گا۔کیونکہ جب لکھتے وقت وہ میری سمجھ میں نہیں آئے۔تواب کیونکر آنے لگے۔اس لئے مَیں خیال کرتا ہوں کہ مَیں خواہ مخواہ کیوں آپ کی ناراضگی کا باعث بنوں۔جبکہ اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیور ہے۔تواپنا کام وہ خود دیکھ سکتا ہے اور جبکہ وہ خود ہر ایک کام کرسکتا ہے۔تو میرا کسی بات پر زور دینا گویا اس کی مدد کا دعویٰ کرنا ہے۔اگر کوئی بات اس کے منشاء کے خلاف ہوگی تو وہ خود انتظام کرے گا۔لیکن میری اطلاع کے بغیر الحکم اور بدر میں کئی دفعہ اس مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اس کے شائع نہ ہونے پر ممکن ہے کہ جو لوگ پہلے سے ہی بہت سےخطابات دیتے ہیں وہ خیال کریں کہ یونہی ہمارے کام میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے لئے تخویف کے لئے یہ مشہور کیا گیا تھا۔اگر کچھ حرج نہ ہو۔تو مَیں بایں الفاظ اخبار میں اعلان کردوں کہ:- ’’ایڈیٹر ان الحکم و بدر نے خلاف میرے منشاء اوربغیر میرے اطلاع کے میرے ایک مضمون کی طرف اپنے اخباروں میں اشارہ کیا ہے۔لیکن چونکہ بغیرحضرت خلیفۃ المسیح کی اجازت کے میں وہ نہیں چھاپ سکتا تا کہ فتنہ کا باعث نہ ہو۔اس لئے حضور کو پہلے دکھایا گیا اور چونکہ وہ حضور کی منشاء کے خلاف تھا اس لئے اس کے چھاپنے سے معذور ہوں اور دیگر احباب سےد رخواست کرتا ہوں کہ وہ بھی آئندہ مسئلہ متنازع فیہ پر قلم نہ اُٹھائیں اور اسے فیصل شدہ سمجھیں ‘‘۔اوراگر اس تحریر کا شائع کرنا نا مناسب ہی تو بھی کچھ حرج نہیں اور بیسیوں اعتراضوں میں یہ بھی ایک سہی۔ایں ہم اندر عاشق بالائے غمہاے دگر۔محمود اس میرے خط کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح نے میرے خط پر ہی یہ الفاظ تحریر فرمائے۔اصل خط مع حضرت خلیفہ اوّل کی تحریر کے اس وقت تک میرے پاس موجود ہے۔’’عزیز من! مَیں نے مناسب موقع پر نشان لگایدا ہے۔مجھے اصل مضمون سے مخالفت نہیں اور ہر گز نہیں۔ما ٔمور جس قدر سختی حکماً کرے۔وہ معذور ہے کیونکہ ما ٔمورہے۔مگر اس کو بھی حکم ہے۔فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ(اٰل عمران : ۱۶۰) آپ کی جوانی اور بدنی کمزوری تیزی چاہتی ہے۔اس میں نرمی مجھے پسند ہے۔مضمون چھاپ دو۔‘‘