انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 140

نے اپریل ۱۹۱۳؁ء کو پھر ایک ٹریکٹ شائع کیا۔جس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ اس نے جو نیا کلمہ بنایا ہے تو کوئی غلطی نہیں کی اور یہ کہ اس پر اسے جماعت سے الگ کیا گیا۔گو ظاہر یہ کیا گیا تھا کہ اس نے خلافت کا دعویٰ کیا ہے مگر اصل باعث وہی اس کے عقائد تھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ظہیر نے اپریل ۱۹۱۳؁ء میں پھر ایک ٹریکٹ شائع کیا۔مگر جہانتک مجھے معلوم ہے۔اس کے جماعت سے نکالے جانے کے متعلق کوئی اعلان نہیں ہوا۔کیونکہ جو کچھ اس نے اس ٹریکٹ میں لکھا تھا۔وہ اسلام سے اس قدر دور تھا کہ احمدی جماعت کے امام یا دیگر اہل علم لوگوں نے اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھی کہ اس کو جماعت سے نکالیں۔جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا کلمہ بنادے۔وہ اپنے اسی فعل سے جماعت سے نکل جاتا ہے۔اس کے جماعت سے نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اور اسی سبب سے میرے نزدیک کوئی اعلان اس کے خلاف نہیں کیا گیا۔پس یہ غلط ہے کہ جماعت احمدیہ یا اس کے امام کی طرف سے یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ظہیر خلافت کا دعویٰ کرتا ہے۔ظہیر مولوی محمد علی کی طرح خلافت کا قائل ہی نہیں اس لئے وہ خلافت کا دعویٰ ہی نہیں کرسکتا وہ تو مصلح موعود ہونے کا مدعی ہے۔اور اس کا دعویٰ ہے کہ جماعت کا امام وہی ہوسکتا ہے۔جسے الہام سے یا رئویا سے یا کسی پیشگوئی کے ماتحت مقرر کیا جاوے۔پس نہ جماعت احمدیہ نے اس پر خلافت کے مدعی ہونے کا الزام لگایا نہ اس وجہ سے اس کو جماعت سے خارج کرنے کا اظہار کیا۔اگر عملاً اس سے قطع تعلق کیا گیا تو صرف اس کے نئے عقائد کی وجہ سے شریعت والا نبی قرار دینا، حضرت خلیفۃ المسیح کی خلافت کا انکار اور آپ پر قسم قسم کے اتہامات لگانا وغیرہ۔اس کی ان تحریرات پر جہاں تک مجھے معلوم ہے اگر تحریر میں کسی نے نوٹس لیا ہے تو میر قاسم علی صاحب نے جنہوں نے اپنے اخبار الحق میں جو اس وقت دہلی میں شائع ہوتا تھا اس کے متعلق ان الفاظ میں اظہار کیا ہے’’ مجھے ظہیر بلوں کو پڑھ کر افسوس بھی ہوتا ہے اور حیرت بھی۔افسوس اس لئے کہ مولوی صاحب موصوف ترکستان کو جارہے ہیں۔اور اس کو کعبہ کا راہ سمجھ بیٹھے ہیں۔اورحیرت اس لئے کہ ان میں کوئی علمی بات یا مفیدمعلومات تائید سلسلہ یا اسلام کی تائید نہیں۔ہوتی یا ہوتی ہے تو کم سے کم میرے فہم و علم سے بالا تر ہوتی ہے۔جس سے میں مستفید نہیںہوسکتا۔‘‘ اسی طرح لکھا ہے۔’’تمام اہلِ قلم احبا ب سلسلہ کی خدمت میں دست بستہ عرض کروں کہ ظہیر بلوں کی طرف اسی قدر توجہ فرماویں جس قدر کہ عبداللہ اور یا ر محمد کی طرف