انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 134

فلاں اعلان اس کے متعلق ہے۔بجائے اپنی تحریر شرمندہ ہونے اور اپنی بے ادبی کی تلافی کرنے کے وہ لکھتا ہے کہ مجھے آپ کے عقائد سے اختلاف ہے۔اس لئے اسی خط کے مطابق کہ اس کے اور میرے عقائد میں اختلاف ہے۔مَیں اعلان کرتا ہوں کہ اس صورت میں اس کا مجھ سے کیا تعلق اور میری جماعت کا اس سے کیا علاقہ ہے۔اب حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے اس اعلان کو مولوی محمد علی صاحب کے مندرجہ ذیل فقرہ سے ملا کر پڑھو۔’’چونکہ محمد ظہیر الدین نئے عقائد شائع کر رہا ہے۔اس لئے اس کا کوئی تعلق احمدیہ جماعت سے نہ سمجھا جاوے۔‘‘ مولوی صاحب کے یہ الفاظ کہ ظہیر الدین نئےعقائد شائع کر رہا ہے۔کیا یہ صاف ثابت نہیںکرتے کہ مولوی صاحب اس امر کے ثابت کرنے کے لئے کہ ظہیر الدین کو جماعت احمدیہ سے خارج کرنے کا باعث اس کی کتاب نبی اللہ کا ظہور یااس کے ہم معنی اور کوئی ٹریکٹ ہوا تھا۔اپنی طرف سے شائع کرنے کا لفظ بڑھاتے ہیں۔حالانکہ حضرت خلیفۃ المسیح کے اعلان میں اس کے کسی ٹریکٹ کی طرف اشارہ نہیں۔بلکہ اس کے اس خط کی طرف اشارہ ہے۔جو اس نے پرائیوٹ طور پر آپ کی خدمت میں لکھا اور باوجود حضرت خلیفۃ المسیح کے تحریر فرمانےکے کہ آپ نے اس کے کسی اشتہار کے خلاف اعلان نہیں کیا۔بلکہ مولوی یار محمد صاحب اور عبدا للہ تیماپوری کے اشتہارات کے خلاف اعلان کیا ہے اس میں اس نے تحریر کیا کہ ’’بزرگوار! مجھے آپکے بعض اعتقادات سے اختلاف ہے۔اور جب تک آپ میرے اعتقادات کا غلط ہونا ثابت نہ کردیں گے۔تب تک میں اپنے عقائد پر قائم ہوں‘‘۔(الحکم ۱۴ ؍اکتوبر ۱۹۱۲ء؁صفحہ ۶) چنانچہ اس کے اس خط کا جواب پرائیوٹ طور پر حضرت خلیفۃ المسیح نے دیا اس میں بھی یہ لکھا ہے کہ تم نے لکھا ہے کہ میری طرف اس میں اشارہ ہے۔مَیں نے لکھا ہے کہ اس میں آپ کی نسبت اشارہ نہیں ہے۔حالانکہ مَیں اپنی طرز میں مناسب نہیں سمجھتا تھا۔مگر جن کی طرف اشارہ تھا۔اس کا نام بھی آپ کی طرف لکھ دیا۔مگر پھر بھی آپ نے بڑی صفائی سے لکھ دیا کہ نور الدین کےعقائد سے میں مخالفت رکھتا ہوں۔اوران عقائد پر مَیں بڑا مضبوط ہوں۔‘‘(الحکم ۱۴؍اکتوبر ۱۹۱۲ء؁صفحہ ۷) اسی طرح ایک اور خط میں تحریر فرماتے ہیں :-’’ آپ کا چونکہ میرے اعتقاد سے بھی اختلاف ہے۔جیسا کہ آپ نے لکھا ہے۔اس واسطےآپ کو مَیں احمدی نہیں سمجھتا ‘‘۔ان حوالجات کو جب عام اعلان سے ملا کر پڑھا جاوے۔تو صاف ثابت ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے ظہیر الدین کو اس کی کسی کتاب یا رسالہ کی اشاعت یا فی الواقع کسی اختلاف عقیدہ کی بناء پر نہیں۔بلکہ اس کی اس تحریر کی بناء پر جماعت سے