انوارالعلوم (جلد 6) — Page 133
عقائد کا اعلان کررہا ہے یا انہیں شائع کر رہا ہے۔اس لئے اس کا ہماری جماعت سے کوئی تعلق نہ سمجھا جائے۔بلکہ یہ تحریر فرمایا کہ چونکہ باوجود میرے لکھنے کے کہ فلاں اعلان اس کے متعلق نہیں وہ پھر بھی اس امر پر زور دئیے جاتا ہے کہ اسے میرے عقائد سے اختلاف ہے۔اس لئے اس کے خط کے مطابق نہ کہ اس کی کتاب کے بناء پر یہ اعلان کرتا ہوں کہ اس کا جماعتِ احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں۔جیسا کہ مولوی محمد علی صاحب نے تحریر کیا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح کا یہ اعلان ۱۱؍جولائی ۱۹۱۲ء کے بدر میں شائع ہوا ہے۔اور ہم اس جگہ اس اعلان کو تمام وکمال نقل کردیتے ہیں تا کہ ہر ایک شخص کو معلوم ہوجائے کہ مولوی محمد علی صاحب نے کسی دیانت داری سے کام لیا ہے۔الفاظ اعلان یہ ہیں:- اخبار بدر میں ظہیرالدین اروپی کے متعلق ایک اشتہار کچھ عرصہ ہوا۔اخبار بدر میں ایک اعلان نکلا تھا کہ بعض لوگ خود بخود اشتہار چھاپتے ہیں۔ایسے اشتہارات سلسلہ احمدیہ کی طرف سے نہ سمجھے جائیں۔کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح کی اجازت اور رضا مندی سے وہ نہیں ہوتے۔اس پر منشی محمد ظہیر الدین صاحب اروپی کے ایک خط کی تحریک پر حضرت خلیفۃالمسیح نے حکم دیا ہے کہ اخبار میں شائع کردیا جاوے کہ ’’ اس اعلان کے ساتھ محمد ظہیر الدین کا کوئی تعلق نہ تھا بلکہ وہ اعلان مولوی یا ر محمد و عبداللہ تیماپوری کے متعلق تھا۔مگر افسوس محمد ظہیر الدین نے اس کی عجیب تلافی کی ہے کہ اپنے ایک تازہ خط میں مجھے اطلاع کی ہے کہ میرا آپ کے بعض عقائد کے ساتھ اختلاف ہے۔لہٰذا میں ان کی تحریر کے مطابق اپنی جماعت کو اطلاع دیتا ہوں۔محمد ظہیر الدین میرے عقائد سے اختلاف رکھتے ہیں۔پس ایسی صورت میں وہ منیہہ سے بھاگ کر پرنالہ کے نیچے کھڑے ہوگئے۔بھلا کسی فروعی اختلاف کا ذکر فرماتے تو مقام سکوت ہوتا۔اب وہ مجھ سے عقائد کا اختلاف رکھتے ہیں اور اپنے عقائد پر مضبوطی سے قائم ہیں۔اسلئے میرا ن سے کیا تعلق۔اور میری جماعت کا ان سےکیا علاقہ۔محمد ظہیر الدین نےعجیب تلافی کی ہے۔اِنَّاللہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔(بدر ۱۱ جولائی ۱۹۱۲ءصفحہ ۲) ظہیر الدین کا جماعت سے خارج کیا جانا محض اسکے ایک خط کی بناء پر تھا نہ کہ اس کی کتاب کی بناء پر یہ اصل عبارت ہےبدر کے اعلان کی۔اس میں دیکھو نہ صراحتاً نہ اشارتاً یہ بات درج ہے کہ ظہیر الدین نئے عقائد شائع کرتا ہے۔بلکہ اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ باوجود میرے انکار کے کہ