انوارالعلوم (جلد 6) — Page 114
کرتا ہے جو نئے ہیں اس لئے اس کا احمدیہ جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔اس پر اس نے معافی مانگی۔۳ - مگر یہ تو بہ لمبی نہ تھی۔۲۰ ؍اپریل ۱۹۱۲ءکو اس نے ایک اور رسالہ نکالا جس میں احمدیوں کے اس اعتراض کا جواب تھقا کہ اس نے نیا کلمہ بنایا ہے اور جواب یہ تھا کہ اس نے اس الزام کو قبول کر لیا تھا۔اس کے بعد جماعت نے اس سے پھر قطع کرلیا اور گو کہ ظاہراً یہ کہا گیا تھا کہ اس کا جماعت سے علیحدہ کرنا خلافت کے دعویٰ کی وجہ سے ہے مگر چونکہ وہ خود خلافت کے دعویٰ سے منکر ہے اس لئے اس کا باعث یہ نئے عقائد ہیں۔گو اس کے ان رسائل کا جواب اس کو مخاطب کرکے تو نہیں دیا گیا مگر مختلف کتب واخبارات میں اس کے ان خیالات کی تردید جماعت کے سنجیدہ لوگوں نےکردی۔۴ - ۱۹۰۹ءمیں مولوی سید محمد احسن صاحب نے مباحثہ رامپور کے متعلق جو نواب صاحب رامپور کے ایماء کے ماتحت آپکے اور مولوی ثناء اللہ امرتسری کے درمیان ہوا تھا ایک کتاب٭لکھی ہے۔اس میں ہم صفحہ ۶۳ پر یہ لکھا دیکھتے ہیں کہ بحث متعلق نبوت جزویہ تابع نبوت کاملہ اس ہیڈنگ کے نیچے انہوں نے لکھا تھا:- ’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے ایک شخص کو جزوی نبوت اسلام کی تائید کیلئے مل سکتی ہے۔‘‘ بعد ازاں اسی عالم بوڑھے نے تشحیذ الاذہان میں جسکے ایڈیٹر ایم محمود تھے۔ایک مضمون جس کا عنوان ‘‘محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو ان میں نبوت ‘‘ تھا۔لکھا۔جس میں اس نے لکھا تھا کہ اس امت میں صرف نبوت جزئیہ مل سکتی ہے۔۵ - جس وقت ظہیر الدین اپنے عقائد پھیلا رہا تھا ایم محمود نے ان لوگوں کے کفر کے مسئلہ کو چھیڑ دیا جنہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت نہ کی تھی۔اورگو ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ مضمون حضرت مولوی صاحب خلیفہ اوّل کو دیا لیا گیا تھا۔مگر بعد میں جو اعلان خواجہ کمال الدین کی طرف سے مولوی صاحب کے دستخط سے شائع ہوا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس کا کیا مطلب سمجھا۔اس مضمون میں یہ بتایا گیا تھا کہ ایم محمود کا مضمون اسی صورت میں قابل تسلیم ہے اگر اس کے یہ معنےکئے جاویں کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود ؑ کو نہیں مانتے وہ درحقیقت آپ کے کافر ہیں نہ کہ دائرہ اسلام سے خارج۔ورنہ اس صورت میں تو یہ مضمون حضرت مسیح موعود ؑ کی تحریرات کے صریح خلاف ہوگا۔۶ - حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کی وفات کے قریب یہ سوال پھر نمودار ہوا اور ۱۹۱۳ءکے آخر میں ایم محمود نے پھر اعلان کیا کہ حضرت مسیح موعودؑ کے منکر کافر ہیں۔آپ کے اس فتویٰ کو بھی کہ غیر احمدی امام کے پیچھے احمدیوں کو نامز پڑھنی جائز ہے انہوں نےغلط ٹھہرایا۔حالانکہ خود حج میں جو ۱۹۱۲ء میں انہوں *ستہ ضروری بتقریب رام پوری مؤلفہ سید محمد احسن امروہی مطبوعہ امروہہ ۸ دسمبر ۱۹۰۹ء