انوارالعلوم (جلد 6) — Page 102
کہتے تھے اوران کے مخالف اور معنے لے کر ان پر الزام لگاتے تھے کہ یہ خدا بنتا ہے۔حالانکہ وہ الوہیت کے انہی معنوں سے مدعی تھے جن معنوں کی رو سے پہلے نبی۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب صفحہ ۵ پر تحریر فرماتے ہیں:- He says that before him those who received the world of God were called gods though they were only men۔۴ اب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا معاملہ لیتے ہیں۔آپ خود تحریر فرماتے ہیں کہ میرے مخالف مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ مَیں نبی کا دعویٰ ان معنوں کی رو سے کرتا ہوں کہ مَیں صاحبِ شریعت جدیدہ ہوں (دیکھو خط مطبوعہ اخبار عام جس کا حوالہ پہلے دیا جاچکا ہے) یہ اعتراض بعینہٖ ویسا ہی ہے جیسا کہ حضرت مسیح ناصری پر لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ خدا ہونے کا دعویٰ ان معنوں سے کرتا ہے کہ یہ اللہ یا اس کا جزو ہے۔اور یہ کفر ہے۔حضرت مسیح موعودؑ جواب دیتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔ان معنوں کی رو سے مَیں نے دعویٔ نبوت نہیں کیا۔لیکن حضرت مسیح موعودؑکہتے ہیں کہ یہ معنے جو تم نبی کے کرتے ہو۔یہ درست نہیں۔کیونکہ گو نبی صاحب شریعت ِ جدیدہ کو بھی کہتے ہیں۔مگر ضروری نہیں کہ نبی کا لفظ اسی پر بولا جاوے۔جو صاحبِ شریعتِ جیدہ ہو۔اور ایسے لوگوں کے سوا دوسروں پر بھی یہ لفظ بولا جاسکتا ہے اور بولا جاتا ہے بلکہ نبی کے اصل معنوں میں یہ شرط ہی نہیں پائی جاتی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں‘‘۔بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے۔جن سے موسوی دین کی شوکت و صداقت کا اظہار ہو۔پس وہ نبی کہلانے یہی حال اس سلسلہ میں ہے۔بھلا اگر ہم نبی نہ کہلائیں۔تو اس کے لئے اور کون سا امتیازی لفظ ہے۔جو دوسرے ملہموںسے ممتاز کرے‘‘۔(ڈائری مطبوعہ اخبار بدر۔پرچہ ۵ ؍مارچ ۱۹۰۸ء) اسی طرح فرماتے ہیں کہ: ’’یہ ضرور یاد رکھو کہ اس اُمت کیلئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے۔پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵ ،روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹) تشریحِ نبوت میں مسیح موعودؑ کی مسیح ناصری سے مشابہت غرض آپ اپنے مخالفین سے کہتے ہیں کہ جو معنے تم لیتے ہو ان معنوں سے میں نبی نہیں۔بلکہ ان معنوں کی رو سے نبی ہوں۔‘‘ جن کی رو سے انبیاء علیہم السلام