انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 99

کہلاتےرہے۔اور ایہ امر بالکل حضرت مسیح ناصری کےواقعہ سے مشابہ ہے۔لیکن اس نشانہ کے ماتحت صرف وہ شخص کردیا جن معنوں میں یہود کہتے تھے کہ آپ کو خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ ہے مشابہ ہو سکتا ہے جو حضرت مسیح موعودؑ کو تشریعی نبی قرار دیتا ہے۔مسیح ناصری کے غالی متبعین سے ہماری مشابہت درست نہیں پس حضرت مسیحؑ ناصری کے ان متبعین سے مشابہت جنہوں نے ان کے درجہ میں ان کی وفات کے بعد غلو کیا ہمیں نہیں۔کیونکہ ہم تم ہر گز ان معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعودؑکو نبی کہتے جن معنوں کی رو سے عموماًآپ ؑکے دشمن آپ ؑ پر اعتراض کیا کرتے تھے اور جن معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعودؑکو ان معنوں کی رو سے نبی کہتے ہیں کہ آپ ؑصاحب شریعت تھے یا اپنا کوئی نیا کلمہ بناتے تھے یا قرآن کریم کا کوئی حکم منسوخ کرتے تھے۔اور خود مولوی صاحب اپنی کتاب سپلٹ حصہ چہارم میں جس کا جواب مَیں اس وقت لکھ رہا ہوں صفحہ پندرہ ۱۵پر لکھتے ہیں۔کہ ایک شخص احمدی جماعت کی طر ف اپنے آپ کو منسوب کرنے والا ایسا ہے جو کہتا ہے کہ اب لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَحْمَدُ رَسُوْلُ اللہِ پڑھنا چاہئے۔پس جبکہ خود مولوی صاحب کی شہادت کی رو سے ایک ایسا شخص موجود ہے جو حضرت مسیح موعودؑکو ان معنوں کی رو سے نبی کہتا ہے جن معنوں کی رو سے دشمن آپؑ پر اعتراض کرتے تھے اور جن معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعودؑاپنے نبی ہونے سے انکار کرتے تھے تو پھر دیدہ و دانستہ مسیحیوں سے ہمیں مشابہ قرار دینا کون سی دیانت ہے۔غرض جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں یہ مشابہت ہمیں نہیں بلکہ ان کو حاصل ہے۔جو حضرت مسیح موعود کو تشریعی نبی کہتے ہیں اورا ن کے نام کا کلمہ پڑھنا جائز سمجھتے ہیں۔مگر مولوی صاحب جان بوجھ کر ہم پر ایسا الزام لگاتے ہیں جس سے ہم بری ہیں۔یہی شخص جس کا ذکر مولوی صاحب نے کیا ہے۔صاف لکھتا ہے:- ’’میاں صاحب موصوف حضرت مسیح موعود کو غیر تشریعی اور اُمتّی اور غیر تشریعی اُمتّی رسول اللہ مانتے ہیں۔اور حضرت مسیح موعودؑ کے الہامات میں جو اوامر نواہی ہیں۔ان پر عمل کرنے سے پہلو تہی کرتے ہیں اور حضرت مسیح موعودؑکی تحریر کے ماتحت ان کو صاحبِ شریعت رسول ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اپنی غلط بات پر قائم رہنے پر اصرار کرتے ہیں۔‘‘