انوارالعلوم (جلد 6) — Page 95
سید عبداللطیف کا واقعہ شہادت یہ واقعہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کا ہے کہ جو افغانستان کے ایک جیّد عالم اور بزرگ تھے۔آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر سُن کر اور آپؐکی بعض کُتب پڑھ کر قبول کیا اور پھر خود قادیان تشریف لاکر صُحبت سے فائدہ حاصل کیا۔جب واپس تشریف لے گئے تو چونکہ افغانستان کے سب سے بڑے عاعلم تھے اور بارسوخ تھے۔حتّٰی کہ امیر٭ موجودہ کی تاجپوشی پر آپ ہی نے اس کے سر پر تاج رکھا تھا۔اس واقعہ کی اطلاع امیر کابل کو بھی دی گئی اور مولویوں نے اس کو بھڑکا یا کہ یہ کافر ہوگیا ہے اس کو قتل کرنا چاہئے۔چنانہ امیر جب مجبورہوا تو اس نے پہلے دیگر افسروں کےذریعہ آپ کو توبہ کے لئے کہا۔جب آپ نے انکار کیا تو اپنے سامنے بلوا کر خود توبہ کے لئے کہا۔جب آپ نے پھر انکار کیا تو مولویوں کے فتویٰ کے مطابق سزائے موت کی دھمکی دی۔جب اس پر بھی بار بار اصرار کیا تو مولویوں کے فتویٰ کے مطابق سنگسار کرنے کا فتویٰ دیا۔جب آپ کو قتل گہا میں لے جایا گیا اور بوجہ ان کے درجہ بلند کے امیرِکابل مع امراء خاص خود اس کام کو پورا کرنےکےلئے ساتھ گیا اور ان کو آدھا زمین میں گاڑ کر سنگسار کرنے کے لئے کھڑا کیا تو پھر امیر بذاتِ خود آپ کے پاس گیا اور کہا کہ اخوندزادہ اب بھی اس عقیدہ سے توبہ کیجئے۔اوراپنی جان اوراپنے اہل و عیال پر رحم کیجئے مگر صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید نے جواب دیا کہ نعوذ باللہ میں صداقت سےکیوں انکار کرسکتا ہوں جان اور اہل و عیال کیا حقیقت رکھتے ہیں کہ ان کی خاطر ایمان چھوڑ دوں۔مجھ سے اس فعل کی اُمید نہ کیجئے مَیں ایمان پر اپنی جان قربان کرنےسےذر ّہ بھر بھی کوف نہیں کرتا۔اس پر آپ پتھروں کی بارش برسائی گئی اور نہایت بیدردی سے آپ شہید کئے گئے۔یہ واقعہ ۱۹۰۳ء میں ہوا ہے۔اور اس بیّن فرق کو ظاہر کرتا ہے جو مسیح ؑ اول اور مسیح ثانی کی جماعتوں میں ہے۔مسیح ؑ اول اور مسیحؑ ثانی کے ساتھ خدا کا معاملہ اور اس میں تفاوت اسی طرح مسیح اوّل اور مسیح ثانی کے ساتھ جو معاملہ خدا تعالیٰ نے کیا وہ بھی بالکل متاوت ہے یعنی مسیح ؑاوّل کو سُولی پر لٹکانے میں اس کا دشمن کامیاب ہوگئے مگر باوجود اس کے کہ مسیحؑ ثانی کو بھی اقدام قتل کے الزام لگا کر دشمنوں نے ہلاک کرنا چاہا خدا تعالیٰ *جس وقت یہ کتاب لکھی جا رہی تھی۔امیر حبیب اللہ خان زندہ تھے۔اس کی اشاعت کے وقت وہ کسی قاتل کت ہاتھ سے قتل ہو چکے تھے۔