انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 57

انوار العلوم جلد ۵ AL صداقت اسلام اسلام خدا تعالی سے بندہ کا تعلق قائم کرتا ھے اس بات کو مد نظر رکھ کر ہم 7 دیکھتے ہیں کہ اسلام خدا تعالیٰ سے بندہ کا تعلق جوڑتا ہے یا نہیں۔اگر جوڑتا ہے تو پھر اس بات کے ماننے میں کسی قسم کا شبہ نہیں رہ جاتا کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے کہ جس کے ذریعہ انسان کو نجات حاصل ہو سکتی ہے۔اس کے متعلق قرآن کریم کا دعوی ہے اور قرآن علی الاعلان کہتا ہے کہ جو شخص مجھ پر عمل کرتا ہے میں خدا تعالیٰ سے اس کی اتنی محبت بڑھا دیتا ہوں کہ اور کسی ذریعہ سے اتنی محبت حاصل ہونی ممکن ہی نہیں۔چنانچہ فرماتا ہے۔الله نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَا مُتَشَابِهَا مَثَانِي تَقْشَعِرُ مِنْهُ جُلُود الَّذِينَ يَحْشُونَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُم إلى ذِكْرِ اللهِ ذَلِكَ هُدَى اللهِ يَهْدِى به مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ من هاده الزمر : ۲۴) خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم نے قرآن ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں بہتر سے بہتر تعلیم دی گئی ہے۔یہ نہیں کہ صرف اس کے اندر اچھی تعلیم ہے اور باقی سب میں بری۔بلکہ یہ کہ اس کے اندر سب سے اعلیٰ اور اچھی تعلیم دی گئی ہے۔یہاں خدا تعالیٰ نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ دوسرے مذاہب کی کتابوں میں اچھی تعلیم نہیں بلکہ یہ فرمایا ہے کہ یہ تعلیم بہتر سے بہتر ہے۔گویا اس کی کوئی بات کسی دوسری بات کے خلاف نہیں۔بلکہ ہر ایک بات ایک دوسری کی تصدیق اور تائید کرتی ہے۔اور اس کی تفصیلات میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ وہ ایک ایسی اصل پر قائم ہیں کہ اس سے ادھر ادھر نہیں ہوتیں۔پھر وہ ایسی تعلیم ہے کہ مثانی یعنی بار بار دہرائی جاتی ہے گویا اس میں ایسی روحانی طاقت اور قوت ہے کہ انسان کو بار بار پڑھنے پر مجبور کرتی ہے اور اس کے اندر ایسی کشش ہے کہ جو سنتا ہے اسے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے جس طرح جب کوئی اپنے محبوب کی آواز ایک بار سنتا ہے۔وہ پھر سُنتا ہے تو چاہتا ہے کہ پھر سنوں۔اسی طرح قرآن کی آواز جو سنتا ہے وہ پھر سنتا ہے۔اور پھر سُنتا ہے۔اسی طرح اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ چونکہ قرآن کی تعلیم ہر زمانہ اور ہر صدی کے لئے ضروری ہے اس لئے ہر زمانہ میں دہرائی جاتی ہے اور تازہ کی جاتی ہے مٹائی نہیں جاتی۔پھر اس کی خوبی یہ ہے کہ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمُ اس سے جلدوں پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے جلال ، اس کی قوت ، اس کی شان ، اس کی شوکت کا بیان اس میں ایسا صاف صاف ہے کہ جب کوئی پڑھتا ہے تو خواہ دین سے کتنا ہی دُور ہو خدا کے خوف سے اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پھر تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمُ إلى ذكر الله