انوارالعلوم (جلد 5) — Page 42
انوار العلوم جلد سخت بینک ہوتی ہے تو وہ کبھی اسے اختیار نہ کرتے۔رسچائی حضرت اقدس اس وقت ہم میں انسان کی صداقت پر غور کرنا چاہتے ہیں۔اس کا دوسرا دعوی یہ ہے کہ امت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاح کے لئے آپ ہی کی اُمت سے کوئی انسان پیدا ہونا چاہتے کیونکہ دوسرے سے مدد مانگنے سے بہتک ہوا کرتی ہے۔اب یہ دیکھنا چاہتے کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی اصلاح کے لئے حضرت علیستی آئیں تو اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے یا نہیں۔کچھ عرصہ ہوائیں نے اخبار میں ایک مضمون پڑھا تھا جس کا مجھ پر بڑا اثر ہوا۔عمان ایک پرانی ریاست ہے وہاں جب بغاوت ہوئی تو ہندوستان سے تار دیا گیا کہ اگر ضرورت ہو تو ہم مدد دیں۔اس کے جواب میں سلطان نے کہا۔جب تک ہم میں جان ہے آپ کی مدد کی ضرورت نہیں۔تو جب تک کسی میں طاقت ہوتی ہے اس وقت تک دوسرے سے کوئی مدد کی درخواست نہیں کرتا اور نہ دوسرے سے مددلینا چاہتا ہے۔اب یہ صاف بات ہے کہ حضرت عیسی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل نہیں ہیں بلکہ حضرت موسی کی قوم میں سے ہیں اور انہی کی قوم کی تربیت کے لئے آئے تھے چنانچ انہوں نے خود کہا ہے کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی طرف بھیجا گیا ہوں ہے ان کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں فساد پیدا ہو گا تو ان کو صلاح کے لئے بھیجا جائے گا۔اس کا یہ مطلب ہوا کہ خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی امداد کا محتاج بنا ئیگا ، لیکن کیا وہ مقدس انسان جس نے دنیا کو نور سے بھر دیا اور وہ سخی مرد جس نے اپنے خزانوں کے دروازے اس قدر فراخ کر دیتے کہ دنیا مالا مال ہو گئی اس کے ہاتھ میں (نعوذ باللہ ) بھیک کا ٹھیکرا دیا اس کی ہتک کرنا نہیں ؟ خدا تعالیٰ تو اس کو یہ فرماتے کہ دَامَا السَّائِلُ فَلَا تَنْهَرُ (الضحی : 11 ) تم نے تجھے وہ نعمت دی ہے اور تم پر وہ انعام گتے ہیں کہ جو کوئی بھی تم سے مانگنے آتے اس کے سوال کو رو نہ کرو۔تیرے پاس تو اتنی دولت ہے وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِثُ ( الضحى :۱۲) که تو علی الاعلان پکار پکار کر لوگوں کو کہہ کہ آو اور مجھ سے لو۔ایک تو وہ سخی ہوتا ہے کہ جو اس سے مانگتا ہے اس کو رد نہیں کرتا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اتنی بڑھی ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تیرا خزانہ اتنا وسیع ہے کہ تو جگہ بہ جگہ پھر اور شور مچا کہ آؤ مجھ سے لے لو اور یہی نہیں کہ جو سائل تیرے پاس آئے اسے تو دے بلکہ خود سائلوں کو تلاش کر کے دے۔تو اس عظمت اور شان والا انسان جس کے شپرد خدا تعالیٰ نے نور اور معرفت کے خزانے کر دیتے اس کا بنی اسرائیل کے نبی کو بلا کر لانا کہ آؤ میری امت محت متی با سب ۱۵ آیت ۲۴ برٹش اینڈ فارن با مبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء