انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 584

انوار العلوم جلد ۵ ۵۸۴ دایات زریں میں کوئی نقص نہیں آجائے گا۔مگر جب ایک مبلغ سے یہ پوچھا جائے گا اور وہ اس کے متعلق کچھ نہیں بتا سکے گا تو لوگ اسے حقیر سمجھیں گے کہ اتنا بھی نہیں جانتا کہ جاوا کہاں ہے جہاں تین کروڑ کے قریب مسلمان بستے ہیں۔تو مبلغ کو جنرل نالج حاصل ہونا چاہئے تاکہ کوئی اسے جاہل نہ سمجھے۔ہاں یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک علم کا عالم ہی ہو لیکن کچھ نہ کچھ واقفیت ضرور ہونی چاہئے۔حضرت خلیفہ المسیح الا مال ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ آپ ایک بیمار کو دیکھنے کے لئے گئے۔وہاں ایک اور طبیب صاحب بھی بیٹھے تھے۔آپ نے اہل خانہ سے پوچھا کہ تھرما میٹرلگا کر بیمار کو دیکھا ہے یا نہیں۔طبیب صاحب نے کہا اگر آپ نے انگریزی دوائیاں استعمال کرنی ہیں تو میں جاتا ہوں۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ تھرمامیٹر کوئی دوائی نہیں بلکہ ایک آلہ ہے جس سے بخار کا درجہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کس قدر ہے۔اس نے کہا آلہ ہو یا کچھ اور ہر ایک انگریزی چیز گرم ہوتی ہے اور بیمار کو پہلے ہی بہت زیادہ گرمی ہے۔تو اس قسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں عام باتوں کا کچھ علم نہیں ہوتا اور مجلسوں میں سخت حقیر سمجھے جاتے ہیں۔مبلغ کے لئے بہ نہایت ضروری ہے کہ وہ علم مجلس سے واقف ہو اور کسی بات کے متعلق ایسی لاعلمی کا اظہار نہ کرے جو بیوقوفی کی حد تک پہنچی ہوئی ہو۔حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک بادشاہ تھا جو کسی پیر کا بڑا معتقد تھا اور اپنے وزیر کو کہتا رہتا تھا کہ میرے پیر سے ملو۔وزیر چونکہ اس کی حقیقت جانتا تھا اس لئے ملاتا رہتا۔آخر ایک دن جب بادشاہ پیر کے پاس گیا تو وزیر کو بھی ساتھ لیتا گیا پیر صاحب نے بادشاہ سے مخاطب ہو کر کہا۔بادشاہ سلامت ! دین کی خدمت بڑی اچھی چیز ہے سکندر بادشاہ نے دینِ اسلام کی خدمت کی اور وہ اب تک مشہور چلا آتا ہے یہ سن کر وزیرنے کہا۔دیکھیے حضور پیر صاحب کو ولایت کے ساتھ تاریخ دانی کا بھی بہت بڑا ملک ہے اس پر بادشاہ کو اس سے نفرت ہو گئی۔حضرت صاحب یہ قصہ سناکر فرمایا کرتے تھے کہ علم مجلس بھی نہایت ضروری ، جب تک انسان اس سے واقف نہ ہو دوسروں کی نظروں میں حقیر ہو جاتا ہے۔اسی طرح آداب مجلس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے مثلاً ایک مجلس مشورہ کی ہورہی ہو اور کوئی بڑا عالم ہونگر اس مجلس میں جا کر سب کے سامنے لیٹ جائے تو کوئی اس کے علم کی پرواہ نہیں کرے گا اور اس کی نسبت لوگوں پر بہت برا اثر پڑے گا۔پس یہ نہایت ضروری علم ہے اور مبلغ کا اس کو جاننا بہت ضروری ہے۔ہر ایک مبلغ کو چاہیے کہ وہ جغرافیہ ، تاریخ ، حساب ، طب ، آداب گفتگو، آداب مجلس