انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 583

انوار العلوم جلد ۵۸۳ کو اخبار میں شائع کرایا جس پر ایک دوست نے سخت افسوس کا خط لکھا کہ اخبار والوں کو منع کیا جائے کہ ایسی خبر نہ شائع کیا کریں۔حالانکہ وہ خبر میں نے خود کہ کر شائع کرائی تھی۔اور منجملہ اور حکمتوں کے ایک یہ غرض تھی کہ اس خبر کے شائع ہونے سے جماعت میں غیرت پیدا ہو اور ان میں سے اور لوگ اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے پیش کریں۔یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ میرا یہ منشاء نہیں کہ خود بخود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالو۔بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی جگہ کی تبلیغ اس لئے مت ترک کرو کہ وہاں کوئی خطرہ ہے۔اور نہ میرا یہ منشاء ہے کہ لوگ بے شک تکلیف دیں اس تکلیف کا مقابلہ نہ کرو۔بے شک قانونا جہاں ضرورت محسوس ہو اس کا مقابلہ کرو مگر تکالیف اور خطرات تمہیں اپنے کام سے نہ روکیں اور تمہارا حلقہ کار محدود نہ کردیں۔میں نے اخلاق کے مسئلہ کا مطالعہ کیا ہے اور دیکھا ہے کہ ستر فیصدی گناہ جرأت اور دلیری کے نہ ہونے کے سب سے پیدا ہوتے ہیں۔اگر جرات ہو تو اس قدر گناہ نہ ہوں۔پس دلیری اپنے اندر پیدا کرو تا کہ ایک تو خود ان گناہوں سے بچو جو جرات نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور دوسرے تمہاری کوششوں کے اعلیٰ نتائج پیدا ہوں۔ہاں اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھو کہ اپنی طرف سے ہر قسم کے فساد یا جھگڑے کے دور کرنے کی کوشش کرو اور موعظہ حسنہ سے کام لو۔اس پر بھی اگر کوئی تمہیں دُکھ دیتا ہے، مارتا ہے ، گالیاں نکالتا ہے یا برا بھلا کہتا ہے تو اس کو برداشت کرو اور ایسے لوگوں کا ایک ذرہ بھر خوف بھی دل میں نہ لاؤ۔تیری بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس میں لوگوں کی ہمدردی تیری ہدایت اور ان کے متعلق قلق ہو جس جگہ گئے وہاں ایسے افعال کئے کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ ہمارا ہمدرد ہے۔اگر لوگوں پر یہ بات ثابت ہو جائے تو پھر مذہبی مخالفت سرد ہو جائے کیونکہ مذہبی جذبات ہی ساری دُنیا میں کام نہیں کر رہے۔اگر یہی ہوتے تو ساری دنیا مسلمان ہوتی۔پیس مبلغ کے لئے نہایت ضروری ہے کہ وہ جہاں جانے وہاں کے لوگوں پر ثابت کر دے کہ وہ ان کا ہمدرد اور خیر خواہ ہے۔جب لوگ اسے اپنا خیر خواہ سمجھیں گے تو اس کی باتوں کو بھی سنیں گے اور ان پر اثر بھی ہوگا۔پیو تھی ہدایت ہو تھی بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ دنیاوی علوم سے جاہل نہ ہو۔اس سے بہت برا اثر پڑتا ہے۔مثلاً ایک شخص پوچھتا ہے کہ جاوا کہاں ہے ؟ گو اس کا دین اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر کوئی نہ جانتا ہو تو اس کے مذہب